خرید بک لینک

امام صادق (علیہ السلام) کی حدیث کا عربی متن اور اس کا اردو ترجمہ:

بے عمل علماء کے متعلق امام صادق (ع) کا ارشاد

امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:

1. علم چھپانے والے:

"إِنَّ مِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ يُحِبُّ أَنْ يَجْمَعَ عِلْمَهُ، وَلَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْخَذَ عَنْهُ، فَذَاكَ فِي الدَّرْكِ الْأَوَّلِ مِنَ النَّارِ"

کچھ علماء ایسے ہیں جو علم جمع کرنا تو پسند کرتے ہیں لیکن یہ پسند نہیں کرتے کہ دوسرے ان سے علم حاصل کریں؛ پس ایسا شخص جہنم کے پہلے طبقے میں ہوگا۔

2. متکبر اور بد مزاج:

"وَ مِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ إِذَا وُعِظَ أَنِفَ، وَ إِذَا وَعَظَ عَنُفَ، فَذَاكَ فِي الدَّرْكِ الثَّانِي مِنَ النَّارِ"

کچھ علماء ایسے ہیں کہ جب انہیں نصیحت کی جائے تو وہ برا مانتے ہیں (تکبر کرتے ہیں) اور جب وہ خود نصیحت کرتے ہیں تو سختی اور تشدد سے کام لیتے ہیں؛ پس ایسا شخص جہنم کے دوسرے طبقے میں ہوگا۔

3. طبقاتی فرق رکھنے والے:

"وَ مِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ يَرَى أَنْ يَضَعَ الْعِلْمَ عِنْدَ ذَوِي الثَّرْوَةِ وَ الشَّرَفِ وَ لَا يَرَى لَهُ فِي الْمَسَاكِينِ وَضْعاً، فَذَاكَ فِي الدَّرْكِ الثَّالِثِ مِنَ النَّارِ"

کچھ علماء ایسے ہیں جو اپنا علم صرف دولت مندوں اور بااثر لوگوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں اور مسکینوں کو اس کا اہل نہیں سمجھتے؛ پس ایسا شخص جہنم کے تیسرے طبقے میں ہوگا۔

4. جابرانہ رویہ رکھنے والے:

"وَ مِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ يَذْهَبُ فِي عِلْمِهِ مَذْهَبَ الْجَبَابِرَةِ وَ السَّلَاطِينِ، فَإِنْ رُدَّ عَلَيْهِ أَوْ قَصَّرَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِهِ غَضِبَ، فَذَاكَ فِي الدَّرْكِ الرَّابِعِ مِنَ النَّارِ"

کچھ علماء اپنے علم کے معاملے میں جابروں اور بادشاہوں جیسا رویہ رکھتے ہیں؛ اگر ان کی بات رد کر دی جائے یا ان کے کسی حکم میں کوتاہی ہو جائے تو وہ غصے میں آ جاتے ہیں؛ پس ایسا شخص جہنم کے چوتھے طبقے میں ہوگا۔

5. باطل علوم کے دلدادہ:

"وَ مِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ يَطْلُبُ أَحَادِيثَ الْيَهُودِ وَ النَّصَارَى لِيُعَزِّزَ بِهِ عِلْمَهُ وَ يُكْثِرَ بِهِ حَدِيثَهُ، فَذَاكَ فِي الدَّرْكِ الْخَامِسِ مِنَ النَّارِ"

کچھ علماء وہ ہیں جو یہود و نصاریٰ کی باتوں (اور باطل افکار) کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے اپنے علم کی دھاک بٹھائیں اور اپنی گفتگو کی چمک دمک بڑھائیں؛ پس ایسا شخص جہنم کے پانچویں طبقے میں ہوگا۔

6. نااہل دعویدار:

"وَ مِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ يَضَعُ نَفْسَهُ لِلْفُتْيَا وَ يَقُولُ سَلُونِي، وَ لَعَلَّهُ لَا يُصِيبُ حَرْفاً وَاحِداً، وَ اللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُتَكَلِّفِينَ، فَذَاكَ فِي الدَّرْكِ السَّادِسِ مِنَ النَّارِ"

کچھ علماء وہ ہیں جو خود کو فتویٰ دینے کے لیے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں "مجھ سے سوال کرو"، حالانکہ شاید وہ ایک حرف بھی درست نہ کہہ پائیں، اور اللہ بناوٹ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا؛ پس ایسا شخص جہنم کے چھٹے طبقے میں ہوگا۔

7. نمائش اور ریاکاری کرنے والے:

"وَ مِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ يَتَّخِذُ الْعِلْمَ مُرُوءَةً وَ عَقْلًا، فَذَاكَ فِي الدَّرْكِ السَّابِعِ مِنَ النَّارِ"

اور کچھ علماء وہ ہیں جو علم کو اپنی مروت (سماجی ساکھ) اور عقل کی برتری ثابت کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں؛ پس ایسا شخص جہنم کے ساتویں طبقے میں ہوگا۔

ماخذ: خصال شیخ صدوق، جلد 2، صفحہ 395، حدیث 840۔

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: يکشنبه 21 تير 1405 ساعت: 1:38

صفحه بندی