خرید بک لینک

علماء کی تحقیق کیوں پڑھی نہیں جاتی

علماء کی تحریریں کیوں نہیں پڑھی جاتیں؟از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈ
انسانی تاریخ میں ایک طویل عہد ایسا بھی گزرا ہے جب علماء کی تحریریں ہر طبقہ میں مقبول تھیں، کیونکہ وہ علم و تحقیق کا بہترین نمونہ ہوتیں، اور فصاحت و بلاغت کی اعلیٰ مثال۔ آج بھی ان پر نگاہ ڈالیں تو ان کے اوصاف و کمالات سے عقل و خرد مرعوب ہو جاتے ہیں، اور ان کی عظمت و ہیبت سے سرنگوں۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سیبویہ کی الکتاب، ابن سینا کی الشفاء اور القانون، امام شافعی کا الرسالة، ابن حزم کی المحلى، زمخشری کی الکشاف، البیرونی کی کتاب تحقیق ما للهند، ابن خلدون کا مقدمہ، شاطبی کی الموافقات، شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجة الله البالغة اور اس طرح کی سیکڑوں کتابیں ہیں، جو دنیا کے علمی ورثہ میں سرفہرست ہیں۔
پھر بلادِ عرب و عجم میں مسلم معاشرے ایسے ثقافتی ادبار اور علمی تنزل کا شکار ہوئے کہ علماء کی تحریریں معیار سے فروتر ہو گئیں، اور انسانی تہذیب کے ارتقاء میں ان کا کوئی قابلِ ذکر حصہ نہ رہا۔ گویا عالمی سطح کے فکری و تعلیمی اداروں اور مرکزوں کی نگاہ میں وہ وجود ہی نہیں رکھتیں۔ نہ جدتِ فکر، نہ ندرتِ خیال، نہ رعنائیِ اسلوب، نہ خوبیِ انداز، نہ مصادر و مراجع کی تحقیق، نہ تحلیل و تجزیہ نگاری، اور نہ استدلال و استنتاج کی جدوجہد؛ بلکہ ان باتوں کا وہاں گزر ہی نہیں۔ گھسی پٹی باتیں، مکرر و معاد مسائل، اور اغلاط و اخطاء کا طومار؛ مزید برآں دون ہمتی، پست حوصلگی، ضعفِ نظر و فکر، رضا بالیسیر، واقتناع بالمعدوم۔
تازه تعلیم یافتہ طبقہ علماء کی کتابیں اور مضامین نہیں پڑھتا، بلکہ ان سے وحشت و نفرت کی حد تک بیزار ہے۔ عربی، اردو اور انگریزی، ہر زبان میں علماء کی تحریروں کا یہی حال ہے۔ بعض اہلِ علم اس تکلیف دہ انحطاط سے فکر مند ہیں، تاہم اکثریت کو اس کا احساس ہی نہیں۔ کچھ لوگ اردو میں لکھتے ہیں، پھر اپنی کتابوں کا عربی اور انگریزی میں ترجمہ کروا لیتے ہیں، اور اس خیالِ خام میں مبتلا رہتے ہیں کہ ان کا پیغام مشرق و مغرب میں پہنچ گیا۔
عزیز طلبہ! آپ اس وقت مدرسوں کی چھٹیوں کی وجہ سے فارغ ہیں، اس لیے آپ کو فکر و نظر کا پورا موقع ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس مقالہ کے عنوان سے خفا نہ ہوں، بلکہ اس تحریر میں جو بات سمجھائی جا رہی ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کریں، اور آئندہ جدوجہد کریں کہ کس طرح ایک کامیاب مصنف بنیں؟ اور کیسے مختلف طبقوں سے ان کے مقام کے اعتبار سے خطاب کریں۔ ذیل میں آپ کی آسانی کے لیے علمی تحریروں کے عناصر کی تشریح پیش ہے:
فکر:
کسی مقالہ یا تصنیف کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر کوئی نیا پیغام ہو، یا کوئی نادر خیال، یا کوئی نرخی فکر۔ جیسے اس مقالہ کی ابتدا میں مذکور کتابیں نئی اور مستقل افکار کی حامل ہیں۔ یا مثلاً حافظ ابن حجر عسقلانی کی شرحِ صحیح بخاری، جس میں پرانی معلومات کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کے ساتھ بہت سے نادر تحقیقات ہیں۔ عصرِ حاضر میں اس کی مثالیں علامہ شبلی نعمانی، مولانا حمید الدین فراہی، مولانا سید سلیمان ندوی، احمد امین، مولانا ابو الحسن علی ندوی، سید قطب شہید وغیرہ کی کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کو کسی بھی زبان میں منتقل کیا جائے تو ان کی افادیت کم نہیں ہوگی۔
اگر تحریر میں کوئی جدت یا ندرت نہیں تو وہ فضول ہے۔ اس کا لکھنا وقت کا ضیاع ہے، اور اس کا پڑھنا بھی وقت کا ضیاع، اور ایسی چیزوں سے عقل کے جمود میں اضافہ ہوتا ہے۔ عام علماء جو کچھ لکھتے ہیں، اس میں کوئی معنویت نہیں ہوتی، ان کی باتیں بالکل سادہ ہوتی ہیں، جن کے پیچھے کوئی سوچ نہیں۔
استناد:
یعنی جو باتیں بھی مقالہ یا کتاب میں پیش کی جائیں، اگر ان میں کچھ نقول ہیں تو ان کے اولین مراجع ذکر کیے جائیں، ثانوی مراجع صرف تائید کے لیے استعمال کریں۔ اولین اور ثانوی مراجع کی توثیق اور ان کی درجہ بندی پر بھی توجہ دیں۔ مثلاً کسی حدیث کے حوالے کے لیے یہ ترتیب اختیار کریں:
(۱) موطأ اور صحیحین۔ (۲) سنن ابی داود، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ۔ (۳) مسند احمد بن حنبل، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ۔ (۴) صحیح ابن خزیمہ، معاجم طبرانی، صحیح ابن حبان، شرح معانی الآثار۔ (۵) سنن دارقطنی، مستدرک حاکم، سنن بیہقی وغیرہ۔
اگر حدیث موطأ یا صحیحین کی ہے تو بالعموم اس کی صحت کی مزید تحقیق کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر دوسرے مراجع کی ہے تو اس کی صحت کی تحقیق بھی کریں۔ حاکم وغیرہ کی تصحیح پر بھی نظر رکھیں، اور اسی طرح معاصرین کی تصحیح و تضعیف پر اعتماد نہ کریں، کیونکہ ان کی نظر حدیث کے علل اور اوہام پر نہیں ہوتی۔
بعض علماء مشکوٰة المصابیح، ریاض الصالحین، بلوغ المرام یا اس طرح کے دوسرے مجموعوں کا حوالہ دیتے ہیں، حالانکہ یہ کتابیں حوالہ کی کتابیں ہی نہیں، ان کی احادیث دوسری کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ اس طرح کے حوالے آپ کی تحریر کو غیر معیاری بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح تفسیر میں محدثینِ کبار کی تفسیروں، امام ابن جریر وغیرہ کی کتابوں کو ترجیح دیں، فقہ میں متقدمین کی کتب پر اعتماد کریں۔ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی بستے ہیں جو عام فقہی مسائل کے لیے حاشیہ ابن عابدین، فتاویٰ عالمگیریہ، بلکہ اردو کی فقہ و فتاویٰ کی کتابوں کے حوالے دیتے ہیں۔
تحلیل و تجزیہ:
جو باتیں پیش کریں، ان کا علمی تجزیہ کریں۔ تحلیل و تجزیہ علمی و ادبی تحریروں کے لوازم میں ہے۔ تحلیل و تجزیہ کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اپنی بات کو اجزاء میں تقسیم کریں، ہر ہر جز اور تفصیل پر "کیوں" اور "کیسے" کا سوال کریں۔ جب سارے متعلقہ سوال کر لیں، اور ان کے نقلی و عقلی جواب سے مطمئن ہوں، تو پھر ناقدانہ نگاہ سے ان کی منطقی ترتیب پر خاص توجہ دیں۔
عام طور سے علماء سیدھے سادے انداز سے ایک بات کہتے ہیں۔ ان کے اجزائے کلام غیر مرتب ہوتے ہیں، ضروری تفصیلات نظر انداز کر دی جاتی ہیں، اور غیر ضروری تفصیلات استطراداً ذکر کی جاتی ہیں۔ ان اجزاء و تفصیلات کے متعلق جو سوالات پیدا ہوتے ہیں، ان سے کوئی تعرض ہی نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تحریریں پھسپھسی اور سطحی ہوتی ہیں۔
وضاحت:
جو کچھ لکھیں، اس کے لیے مناسب اسلوب اور معیاری زبان استعمال کریں۔ علمی مضامین کا اسلوب علمی ہو، اور ادبی مضامین کا اسلوب ادبی ہو۔ البتہ اصطلاحات اور فنی چیزوں سے حتیٰ الفرصت اپنی تحریروں کو پاک رکھیں۔ شائع کرنے سے پہلے اپنی تحریریں متعلقہ علوم و فنون کے ماہرین کو پیش کرکے ان کی رائے معلوم کریں۔ جب یہ اندازہ ہو جائے کہ آپ کی بات اہلِ علم و ادب کے نزدیک قابلِ قبول ہے، تو پھر کچھ عام پڑھے لکھے لوگوں کی رائے معلوم کریں کہ وہ کس حد تک ان سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ جب یہ دونوں طبقے آپ کی تحریر منظور کر لیں، تب اسے نشر کریں۔
واضح تحریروں کے بہترین نمونے علامہ شبلی نعمانی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اور مولانا مودودی کے یہاں بکثرت ہیں۔ عربی زبان میں علمی مضامین کے لیے سب سے اچھا انداز احمد امین کا ہے۔ ان کی کتاب فجر الإسلام شاید واضح علمی اسلوب کی سب سے اچھی مثال ہے۔
عام علماء کی تحریروں میں بیانِ مطالب کی کوشش اور زبان و اسلوب کی رعایت تقریباً مفقود ہوتی ہے، بلکہ بہت سے مصنفین اور مضمون نگاروں کو یہی نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے مخاطب کون ہیں، اور وہ کس کے لیے لکھ رہے ہیں؟
آخری گزارش:
اس مضمون کی غایت کسی کی تنقیص یا کسی پر طعن و تشنیع نہیں، اس لیے اس طرح کی کوئی بدگمانی دل سے نکال دیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ اور نوجوان فارغین کی رہنمائی کی جائے، تاکہ ان کی تحریریں زیادہ سے زیادہ مفید ہوں، اور ان کے نقائص و عیوب کی اصلاح ہو جائے۔
وما توفیقی إلا بالله، عليه توكلت وإليه أُنيب۔

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

صفحه بندی