خرید بک لینک

دامــاد علـی و بتـول نامی پاکستان میں جاری ناصبی ڈرامــہ فلاپ

عقد ام کلثوم کا خود ساختہ افسانہ اور مولبی کی منافقت کا پردہ فاش معتبر ترین سنی کتب سے

ام کلثوم کا نکاح

ایسے ایسے جھوٹ :لکہ الامان والحفیظ ۔۔ جنہیں سچ بتانے کےلیے اھل بیت علیہم السلام کے بغض و عناد اور عداوت کے حامل افراد کی طرف سے مزید کذب بیانی اور نت نئے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ھے ۔ اور یہ اھلبیت علیہم السلام کے باب العلم سے بھٹکے ھوئے در بدر ذلیل و خوار ھونے والے حضرات کا پرانا وطیرہ چلا آ رھا ھے ۔ کہ بغض علی علیہ السلام و اھلبیت علیھم السلام میں ایک جھوٹ کو سچ بنانے کیلیئے اور کئی جھوٹ بولے جاتے ھیں - پھر بھی بھانڈا پھوٹ جائے ، تو اپنی سنی کتب معتبرہ مثل صحیح بخاری و صحیح مسلم کا بھی انکار کر دیا جاتا ھے ۔

ایک ایسا ھی جھوٹ جو اھلبیت علیہم السلام سے کذب بیانی کیساتھ منسوب کیا جاتا ھے ۔ آج خانوادہ ء عصمت و طہارت کیلیئے اس توہین آمیز جھوٹے نظریہ کیساتھ ساتھ منکرین اہلبیت علیہم السلام کو اسکا علمی و تحقیقی و مدلل اور منہ توڑ جواب پیش خدمت ھے ۔۔۔۔۔ !!

انکارِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بعد قبولیتِ اُمِ کلثومؑ کیسے؟

روایت میں آتا ھے :

«خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم: إِنَّهَا صَغِيرَةٌ ، فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ فَزَوَّجَهَا مِنْهُ»

"ابوبکر اور عمر نے حضرت فاطمہ صلواۃ اللہ علیہا کے لیئے نکاح کا پیغام دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک وہ ابھی کم سن ہیں ، پھر حضرت علیؑ علیہ السلام نے نکاح کا پیغام دیا تو نکاح کر دیا گیا۔"

اب ذرا انصاف سے بتاؤ !
جب سیدہ فاطمہ صلواۃ اللہ اللہ علیہا کے بارے میں کم سنی کا قول رسول پیش کیا گیا ، تو پھر یہی لوگ بعد میں اسی سیدہؑ صلواۃ اللہ علیہا کی کم سن صاحبزادی اُمِ کلثومؑ کے رشتے تک کیسے پہنچ گئے؟

یہ تضاد نہیں تو اور کیا ھے؟
اور حیرت کی بات یہ ھے کہ بعض لوگ ایسی روایات کو بغیر تحقیق قبول کر لیتے ھیں ، حالانکہ انہی روایات میں خود بیسیوں اندرونی اختلافات اور سوالات موجود ھیں ۔ حوالہ جات صحیح ترین کتب صحاح ستہ میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔

تاریخ سے یہ بات ثابت و واضح ھے کہ عمر کے نکاح میں ام کلثوم نام کی متعدد ازواج تھیں۔۔۔

1- ام کلثوم جمیلہ بنت عاصم بن ثابت جو عاصم بن عمر کی ماں تھیں (تاریخ الخمیس علامہ دیار بکری جلد 2 صفحہ 251)

2- ام کلثوم بنت جرول خزاعیہ ۔ ان کا اصل نام ملیکہ تھا ۔ یہ زید بن عمر کی ماں تھیں (تاریخ دقیق جلد 3 صفحہ 22)

3- ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ۔ زھری کے مطابق یہ زمانہ جاھلیت میں عمر بن عاص کے پاس بھاگ کر آئی تھیں - اور انھوں نے اسلام قبول کیا تھا ۔ انکے رشتہ داروں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے واپسی کا مطالبہ کیا ۔ تو آنحضرت (ص) نے فرمایا : جو عورت اسلام قبول کرے - وہ واپس نہیں جا سکتی - چونکہ ابن عاص ابھی کافر تھا ۔ لہذا واپس نہ کیا گیا اور عمر نے ان سے نکاح کر لیا (تفسیر کبیر فخرالدین رازی جلد 8 شرح بخاری قسطلانی جلد 4 صفحہ 349) ۔۔

4- ام کلثوم بنت راھب
(سنن ابن ماجہ اور سنن ابو داؤد)

5- ام کلثوم بنت ابو بکر دختر اسماء بنت عمیس خواھر محمد بن ابو بکر جن کو مولا علی علیہ السلام نے پالا تھا (طبقات الاتقیاء ابن جہاں اعلام النساء جلد 4 صفحہ 250 ، موطا امام مالک صفحہ 435 ، المعارف ابن قتیبہ دینوری صفحہ 165 ، خلفاء راشدین حاجی معین الدین ندوی صفحہ 79 ، اذالتہ الخفاء شاہ ولی اللہ محدث دھلوی مقصد دوئم صفحہ 41 وغیرہ)

اور اسی ام کلثوم بنت ابوبکر سے عمر نے نکاح سنی کتب میں ملتا ہے جس کو تحریف کر کے پیش کیا جاتا ہے
ملاحظہ فرمائیں ، المعارف ابن قتیبہ دینوری صفحہ 168 و ریاض النضرہ فی مناقب عشرہ المبشرہ جلد اول صفحہ 470 ۔۔

6- ایک ام کلثوم بنت ابوبکر ، ابوبکر کے مرنے کے بعد پیدا ھوئی ۔ اسکی ماں حبیبہ بنت خارجہ تھیں

ملاحظہ فرمائیں تاریخ الخلفاء السیوطی صفحہ 150 و اذالتہ الخفاء شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مقصد دوئم صفحہ 41 وغیرہ ۔۔

7- المعارف ابن قتیبہ دینوری صفحہ 226 پہ ھے کہ ام کلثوم بنت ابوبکر جن کو علی علیہ السلام نے پالا تھا ان کے دو بچے تھے۔ زید بن عمر اور فاطمہ یا رقیہ !!

رقیہ کی شادی خود خلیفہ دوئم نے ایک صحابی ابراھیم بن نعیم التحام کیساتھ کر دی تھی ۔ اور فاطمہ یا رقیہ شوھر کے سامنے ھی لا ولد وفات پا گئی ۔

تعجب بالائے تعجب یہ ھے ، کہ بمطابق علماء اہلسنت 6/7 سال کی عمر میں ام کلثوم کی شادی ھوئی ۔ نہایت مختصر ازدواجی زندگی میں اسکی اولاد بھی ھو گئی ۔ بیٹی جوان بھی ھو گئی ۔ اسکی شادی بھی ھو گئی اور وہ مر بھی گئی (تعجب در تعجب) ۔۔

جبکہ مندرجہ کتاب کے صفحہ 229 سطر 15 پہ صاحب کتاب ابن قتیبہ دینوری رقمطراز ھیں کہ ۔۔۔
زید بن عمر اور اسکی والدہ ام کلثوم کی وفات ایک ھی دن ھوئی ۔ اور عبداللہ بن عمر نے ان دونوں کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ مزید تعجب تو یہ ھے کہ اگر ام کلثوم فوت ھو چکی تھی ۔ عبداللہ بن عمر نے اپنی سوتیلی ماں کا جنازہ بھی پڑھا دیا تھا ۔ اور اگر یہ ام کلثوم بنت علی علیہ السلام تھیں ، تو ایک دفعہ مرنے کے بعد یہ کربلا میں دوبارہ زندہ کیسے ھو گئی؟

صاحبان علم و فہم سے انصاف کی امید ھے ۔۔

اب طبری ، جامع وغیرہ سے معلوم ھوتا ھے کہ ابو بکر کے مرنے کی بعد اسکی زوجہ اسماء بنت عمیس کو ایک لڑکی سنہ 12 ھ میں پیدا ھوئی - چونکہ اسماء نے ابوبکر کے بعد حضرت علی علیہ السلام سے شادی کر لی تھی - لہذا اس بچی کو جسکا نام ام کلثوم تھا لیکر بیٹے محمد بن ابی بکر کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے گھر آ گئیں -

چنانچہ مصنف کتاب رحمۃ اللعالمین لکھتے ھیں کہ ۰۰۰ اسماء بنت عمیس (بیوہ ابوبکر) کے بطن سے ایک لڑکی بعد ابوبکر پیدا ھوئی تھی ۔ اسی لڑکی سے حضرت عمر کا نکاح ھوا ... الفضائل تبلیغ مولوی محمد زکریا کاندھلوی ۔ کتاب ھدایۃ السعداء علامہ دولت آبادی۔

پس چونکہ یہ ام کلثوم ربیبہ علی یعنی جس کو پالا جائے تھی - لہذا رواجِ عرب کے مطابق انکو بنت علی (ع) کہا گیا ۔

عمر نے اس رشتہ کے حصول کیلیئے حضرت عائشہ کو راضی کیا ۔ ان ھی کی کوششوں سے یہ نکاح ھوا ۔ چنانچہ علامہ ابن حجر نے اصابہ میں طبری نے اپنی تاریخ میں اور ابن اثیر نے جامع میں لکھا ھے کہ : عمر نے ان (ام کلثوم بنت ابو بکر) سے اپنے عقد کیلیئے پیغام حضرت عائشہ کے پاس بھیجا ۔ اور وہ راضی ھو گئیں"۔

گو کہ حضرت علی علیہ السلام ذاتی طور پر اس رشتہ پر نا خوش تھے ۔ مگر اصل وارث خاندان ابوبکر تھا ۔ جنکی سرکردہ حضرت عائشہ تھیں - لہذا آپ بھی بادل نخواستہ آمادہ ھو گئے ۔

معاندین اہلبیت علیہم السلام نے اس رشتہ کو انتہائی غلط رنگ میں پیش کیا ، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ھے ۔ یہ کچھ ماخذ کتاب
"ذکا الاذہان بجواب جلاء الاذہان" سے لیا گیا ھے ۔۔
عمر کا حضرت عائشہ رضی کے پاس ام کلثوم بنت ابوبکر کیلیئے پیغام عقد بھیجنا ۔ اور بی بی صاحبہ کا رضامند ھونا - مندرجہ ذیل حوالہ جات سے بھی ثابت ھے -

1- تاریخ الخمیس علامہ حسین دیار بکری مطبوعہ العامرہ العثمانیہ مصر جلد 2 صفحہ 267 -

2- تاریخ دقیق علامہ ابن اثیر مطبوعہ مصر جلد نمبر تین صفحہ 21 -

3- استیعاب فی معرفتہ الاصحاب علامہ ابن عبد البر مطبوعہ حیدر آباد دکن جلد 2 -
بعض حضرات کا خیال ھے ابوبکر کی موت کے بعد کوئی بیٹی انکی پیدا نہ ھوئی - جس کا نام ام کلثوم رکھا گیا۔

حالانکہ مندرجہ ذیل شواھد سے یہ خیال غلط ثابت ھوتا ھے، ملاحظہ فرمائیں:

1- تاریخ الامم و الملوک ابن جریر طبری مطبعہ الحسینہ قاہرہ مصر الجزء الثانی صفحہ 50۔

2- تاریخ الجامع علامہ ابن الاثیر مطبوعہ مصر الجزء الثانی صفحہ 161۔

3- تاریخ الخمیس علامہ دیار بکری مطبوعہ مطبعۃ العامرہ العثمانیہ مصر جلد 2 صفحہ 276

4- الاصابہ فی تمیز الصحابہ حافظ ابن حجر عسقلانی مطبوعہ مطبعہ الشرفیہ مصر الجزء الثامن صفحہ 276 الجزء الثالث صفحہ 27 ترجمہ زید بن خارجہ اور الجزء الثالث صفحہ 211

جبکہ کچھ لوگوں کا گمان ھے کہ ام کلثوم بنت ابوبکر حضرت اسماء بنت عمیس کے بطن سے نہ تھیں۔

چنانچہ صاحب صواعق محرقہ ابن حجر مکی نے استیعاب اور کنز العمال کے حوالہ سے لکھا ھے - کہ ام کلثوم کی ماں جناب اسماء بنت عمیس تھیں ۔ پس قرائن ثابت کرتے ھیں - کہ سنہ 17 میں چار پانچ سالہ لڑکی ام کلثوم جسکا عقد عمر سے ھوا - وہ ابوبکر کی بیٹی تھیں - اور حضرت علی علیہ السلام کی ربیبہ تھیں ۔

اگر یہ سوال کیا جائے ۔ کہ ام کلثوم اگر ربیبہ تھیں - تو پھر عمر نے حضرت علی (علیہ السلام) کے سامنے نسب و سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا ذکر کیوں کیا؟ تو جواب یہ ھے کہ یہ سب تو عمر کو اپنی بیٹی حضرت حفضہ عقد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دیکر پہلے ھی حاصل ھو چکا تھا ...!!

نیز عمر کے اس قول کی دین اسلام اور شریعت محمدیہ میں کوئی اھمیت بھی نہیں ھے ۔ اسلام میں رشتہ داری کوئی معیار نہیں ھے ۔ اور مناکحت شرط فضیلت نہیں ھے۔
کیونکہ جناب آسیہ (س) کی زوجیت فرعون کیلیئے مفید نہیں ھے اور جناب لوط و نوح علیہم السلام کی بیویوں کیلیئے رشتہ ازدواج کسی فائدہ کا سبب نہیں ھے۔ قابیل و پسر نوح (ع) کو اولاد آدم و نوح علیہم السلام ھونے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ھے ۔ اور صفورا حضرت موسی (ع) کی زوجہ اور حضرت شعیب نبی (ع) کی بیٹی ھوتے ھوئے بھی راندۂ درگاہ ھے ..!!

اب ھم مولانا شبلی نعمانی کی ایک عبارت نقل کرتے ھیں۔ ملاحظہ ھو ۔ وہ فرماتے ھیں : فلسفہ تاریخی کا یہ ایک راز ھے - کہ جو واقعات جسقدر زیادہ شہرت پکڑ جاتے ھیں ۔ اسی قدر انکی صحت زیادہ مشتبہ ھوتی ھے ۔ دیوار قہقہہ ، چاہ بابل ، اب حیواں ، مارضحاک ، جام جم سے بڑھکر کس واقعہ نے شہرت عام کی سند حاصل کی ھے؟ لیکن کیا ان میں ایک بھی اصلیت سے علاقہ رکھتا ھے؟ حقیقت یہ ھے کہ اکثر واقعات کسی خاص وقتی سبب سے شہرت کی منزل پر آ جاتے ھیں۔ پھر عام تقلید کے اثر سے جو خاصہ انسانی ھے۔ شہرت عام کی بنا پر لوگ اس پر یقین کرتے چلے جاتے ھیں اور کسی کو تنقید اور تحقیق کا خیال تک نہیں آتا۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ وہ مسلمات عامہ میں داخل ھو جاتے ھیں ۔۔
پس مولوی شبلی کی اس عبارت کو مد نظر رکھکر اس واقعہ عقد ام کلثوم کو دیکھنا چاھیئے ۔ اور اندھا دھند روایات میں نہیں کھونا چاھیئے ۔ کیونکہ روایات میں غلط اور صحیح ھر طرح کی خبریں ھیں . سچ اور جھوٹ کی پہچان کیلیئے ھم مسلمانوں کے پاس خدا کی کتاب بہترین کسوٹی ھے ۔ کتابیں لاکھ صحیح ھوں ، مگر وہ الہامی تو نہیں ھیں۔

محدثین و مورخین کتنے ھی جلیل القدر کیوں نہ ھوں؟ بہرحال وہ معصوم اور محفوظ عن الخطا تو نہ تھے - ان سے غلطی کا صدور ممکن و جائز تھا ۔۔

کچھ دشمنان اسلام نے اھلبیت (ع) کے بغض و عناد میں اشتباہ نام سے فائدہ اٹھا کر اسکی مشہوری کر دی - اور بعض نے نا دانستہ طور پر مغالطہ کھایا ورنہ حقیقت شناسوں کیلیئے صحیح صورت معلوم کر لینا کوئی مشکل بات نہیں ھے ۔

عبد الحق محدث دھلوی*ل نے رجال مشکواۃ میں اس قصہ کو صفحہ 115 پر تحریر کرکے ان ھی خیالات کا اظہار کیا ھے ۔ اور علامہ ابن اثیر نے اپنی تاریخ جامع کی تیسری جلد کے صفحہ 23 پر یہی مضمون درج کیا ھے ۔۔

ملک العلماء دولت آبادی نے اس قصہ کی اصلیت یوں لکھی ھے ۔ "
حضرت اسماء بنت عمیس پہلے حضرت جعفر طیار (ع) کی زوجہ تھیں . انکے بعد ابوبکر کے نکاح میں آئیں - انکے ہاں ایک لڑکا اور ایک بیٹی ام کلثوم پیدا ھوئی ۔ ابوبکر کیبعد آپ حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کی زوجیت میں آئیں ۔ ام کلثوم اپنی والدہ کے ھمراہ آئیں ۔ اور عمر بن خطاب نے ان ام کلثوم بنت ابو بکر سے نکاح کیا ۔ علامہ ابن حجر عسقلانی نے اصابہ صفحہ 343 پر لکھا ھے ۔ کہ ام کلثوم بنت ابوبکر بوقت وفات ابوبکر شکم مادر میں تھیں ۔۔
ابوبکر کی موت سنہ 13ھ میں ھوئی ھے۔ پس سنہ 17 میں عمر کے نکاح میں آتے وقت یہی ام کلثوم 4 ، 5 برس کی ھو سکتی ھے ۔ عمر کی زوجہ ام کلثوم علامہ دولت آبادی کی تحقیق کے مطابق صغیر سنی میں عمر ھی کے گھر انتقال کر گئیں - اور انکی کوئی اور اولاد نہ تھی۔(ہدایت السعداء صفحہ 259)

آخر میں پڑھنے والوں کی خصوصی توجہ کے طالب ہیں، اس مکتب فکر سے آخری جواب لاجواب اور گستاخان اھلبیت (ع) کو منہ توڑ جواب ۔۔
عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب تحفہء اثناعشریہ اور ابن قتیبہ دینوری بھی المعارف میں یہی درج فرماتے ھیں - کہ یہ زوجہ عمر ام کلثوم اور اسکا بیٹا ایک ھی دن فوت ھوئے - اور انکا جنازہ عبداللہ بن عمر نے پڑھا - اب اھلبیت علیھم السلام کے بغض و عناد اور عداوت کے حامل ناصبی دنیا مکرر جواب دے کہ :
یہی عورت ام کلثوم زوجہ عمر جو دور معاویہ میں اپنے صاحبزادے سمیت فوت ھو گئی ۔ جسکا جنازہ بھی عبداللہ بن عمر پڑھا چکے - یہی ام کلثوم کربلا میں دوبارہ زندہ کیسے ھوئی؟ (ملاحظہ فرمائیں المعارف ابن قتیبہ دینوری صفحہ 229)

55 سالہ ام کلثوم بنت علی سلام اللہ علیھا کے واقعہ کربلا کے بعد والے خطبے جو انہوں نے عالم اسیری میں فاسقوں کے دربار میں فرما کر مسلمانوں کی خوابیدہ حمیت کو جگایا ۔ آج بھی تاریخوں میں محفوظ ھیں اور پر فصاحت و بلاغت کلام نے شیر خدا علی المرتضی علیہ السلام کی آواز کا اشتباہ پیدا کر دیا - مسلمانوں کی غیرت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔

افسانہ عقد ام کلثوم پر ھماری طرف سے لا تعداد کتب پیش کی جاچکی ھیں ، جو تا ھنوز لا جواب ھیں- مگر پھر بھی دن بدن بعض ضدی افراد اس جھوٹ کی پٹاری کو بازار میں فروخت کرنے لاتے رھتے ھیں۔ اور یہ بات نہیں سوچتے کہ یہ خاک انکے اپنے سر میں ھی پڑیگی۔

چاند پر تھوکا واپس اپنے پر پلٹے گا ۔ ایسے ناگفتہ بہ واقعات کا بیان سراسر اسلام کی بد خواھی ، دین کی تحقیر و تقصیر اور بزرگان دین کی توھین ھے ۔

لہذا تمام مخلص مسلمانوں سے درد مندانہ اپیل کی جاتی ھے ۔ کہ وہ محض ضد میں آ کر دین اور اکابرین اسلام کی مٹی پلید ھونے سے پہلے ھی حفظ ما تقدم کی احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔ اور ھر بات کو کہنے سے پہلے سوچیں ۔ کہ ھم اسلام اور بزرگان اسلام کی عزت افزائی کر رھے ھیں یا تعظیم کشی؟

❤️ عقل وانصاف کے ترازو پر تول کر قرآن و حدیث کی کسوٹی پر جانچ کر فطرت و عدل کی میزان دیکھ کر کسی امر کا پرچار کریں ۔ وقتی مصلحت کے تحت جو بات آپکو مفید نظر آتی ھے ۔ وہ دائمی طور پر مضرت رساں بھی ھو سکتی ھے ۔ لہذا پہلے تولو پھر بولو ۔۔

یہ عبارت مورخ ابن خلدون کی ھے ۔ اس اقتباس کے آئینہ میں افسانہ عقد ام کلثوم کو دیکھئے ۔ تو یقینا عقل کا فیصلہ ، ضمیر کی آواز ، انسانیت کی پکار ، شرم وحیا کی تائید ، تہذیب وتمیز کی تصدیق ، اخلاق وتمدن کی توثیق مندرجہ ذیل ہوگی ۔ وہ کہتے ہیں کہ : "یہ قصّہ قطعی غلط بے بنیاد اور بہتان عظیم ھے ۔ کیونکہ یہ واقعہ خلاف عقل و قیاس ھے "۔ کسی خبر کا لغو ہونا ازخود اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہوتا ھے ۔ اور یہ فسانہ سر تا پاء لغو ھے ، حماقت ھے ، تضیع وقت ھے".... عزیزان گرامی قدر ،، مندرجہ سطور کے بعد یہ کہنا بھی ضروری ھے کہ :

عقد ام کلثوم و عمر ایک ایسا افسانہ ھے جسے خود اھلسنت محدثین بھی رد کرتے ھیں اور اسے عمر کی توھین قرار دیتے ھیں ۔ لیکن کچھ ناآشنا اور اھلبیت علیھم السلام کے بغض و عناد اور عداوت کے حامل لوگ موجود ھیں جو اس افسانے کو ابھارنے ک کوشش کرتے ھیں ۔ ھم ایک سادہ مگر جامع اور کچھ حقائق سے اس افسانے کا رد کرتے ھیں اور اس واقعے کی حقیقت تک رسائی حاصل کرتے ھیں ۔۔۔
شبلی نعمانی اپنی مشہور کتاب "الفاروق" میں لکھتے ھیں ۔ کہ عمر و ام کلثوم کا عقد سترہ ھجری میں ھوا اور اسوقت ام کلثوم کی عمر پانچ سال کی تھی ۔ اور خلیفہ صاحب بوڑھے تھے ۔ اگر یہ عقد سترہ ھجری میں ھوا تو ام کلثوم کی ولادت بارہ ھجری میں ھونا ثابت ھوا ۔۔

اب جنابِ سیدہ کائنات صلواۃ اللہ علیہا کی شہادت گیارہ ھجری میں ھوئی جبکہ ام کلثوم زوجہ عمر کی ولادت 12 ھ میں ھوئی جس سے ثابت ھوا کہ یہ ام کلثوم بنت مولا علی علیہ السلام نہیں بلکہ کوئی اور ھے ۔ بلکہ روایات سے ثابت ہوتا ھے کہ یہ ام کلثوم بنت ابوبکر ھے ، جس سے عمر نے حضرت عائشہ صدیقہ کے ذریعے سے عقد کیا۔

لیکن ھم فی الحال کچھ اور حقائق واضح کرتے ھیں تاکہ جنابِ ام کلثوم بنت مولا علی علیہ السلام پر تہمت کا بخوبی جواب دیں ۔ اب ام کلثوم بنت مولا علی علیہ السلام کی پیدائش یا وجود کی ھم بحث نہیں کرتے بلکہ اسی مبحث کو لے کر حقائق واضح کرتے ھیں ۔۔
مورخین کے نزدیک جب ام کلثوم زوجہ عمر کی وفات ھوئی تو اس کی نماز جنازہ میں امام حسن مجتبیٰ اور امام حسین علیہم السلام نے بھی شرکت کی ملاحظہ ھو (تاریخ خمیس جلد 2 صفحہ 385) (طبقات الکبریٰ جلد 8 صفحہ 301 )
جبکہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت انچاس یا پچاس ھجری میں ھوئی ( تذکرۃ الخواص صفحہ 181)
اور دوسری بات ام کلثوم زوجہ عمر کی نماز جنازہ میں امام حسین علیہ السلام بھی شریک ھوئے ۔ جبکہ امام حسین علیہ السلام اکسٹھ ھجری کو کربلا میں شہید ھوئے ۔ اور ام کلثوم بنت مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اکسٹھ ھجری واقعہ کربلا کے بعد وفات پائی ۔ اب یہ کیسے ممکن ھے؟ کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام دونوں ام کلثوم زوجہ عمر کی نماز جنازہ میں شامل ھوئے ھوں ؟ جبکہ حقیقت امر یہ ھے کہ عمر نےام کلثوم بنت ابوبکر کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا تھا ۔۔(تاریخ طبری جلد سوم صفحہ 22 )
(البدایہ والنہایہ جلد 7 تذکرہ ازواج عمر بن خطاب)

* امام نووی لکھتے ھیں ۔ کہ عمر نے ام کلثوم بنت ابوبکر کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا جسے حضرت عائشہ نے تسلیم کر لیا (تہذیب اسماء اللغات جلد 2 صفحہ 369 )

تحریر دوم

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدہ ام کلثوم بنت علی المرتضیٰ علیہ السلام کا نکاح حقائق کی روشنی میں

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت: تقریباً 40 سال قبلِ عامُ الفیل، یعنی بعثتِ نبوی ﷺ سے تقریباً 13 سال پہلے۔

آپؓ قریش کے قبیلہ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔

(ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج 4، ص 484
ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ج 3، ص 1145
ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
محمد بن سعد، الطبقات الکبریٰ )
اس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر ہجرت کے وقت تقریباً 38 سے 40 سال بنتی ہے

جبکہ مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام کا اور سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کا نکاح 2ہجری کو ہوا
حوالہ جات
(اہلِ سنت والجماعت کے حوالے
الطبقات الكبرى — ابن سعد
جلد 8، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حالات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکاح کا ذکر ہے۔ اہلِ سیر کے ہاں نکاح 2 ہجری کے بعد کا مشہور قول ہے۔ �

عمدة القاري شرح صحيح البخاري — علامہ بدرالدین عینی
جلد 16، صفحہ 249
اس میں نکاح کے وقت اور رخصتی کے متعلق مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ �

سبل السلام — امام صنعانی
جلد 2، صفحہ 219
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول قول نقل کیا گیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے دوسرے سالِ ہجرت میں رمضان میں نکاح کیا اور ذوالحجہ میں رخصتی ہوئی�

اہلِ تشیع کے حوالے
بحار الأنوار — علامہ محمد باقر مجلسی
جلد 43، صفحہ 92
مصباح المتهجد کے حوالے سے نقل ہے کہ 1 ذوالحجہ کو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا نکاح حضرت علی علیہ السلام سے کیا، اور ایک روایت میں 6 ذوالحجہ کا ذکر ہے۔ �

بحار الأنوار — جلد 43، صفحہ 97
أمالي الطوسي کے حوالے سے رخصتی 6 ذوالحجہ کا قول نقل ہوا ہے۔ �

بحار الأنوار — جلد 43، صفحہ 214، حدیث 44
ابن مندہ کے حوالے سے ایک قول نقل ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے نکاح ہجرت کے ایک سال بعد کیا اور تقریباً ایک سال بعد رخصتی ہوئی۔ �
بحار الأنوار — جلد 43
ایک اور روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ نکاح رمضان 2 ہجری میں ہوا اور رخصتی ذوالحجہ 2 ہجری میں ہوئی۔ �)

تو اس حساب سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر مبارک مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام کے نکاح کے وقت چالیس سال سے بیالیس سال ہوئی

اب مولا امام حسن علیہ السّلام کی ولادت باسعادت۔15رمضان سن 3 ہجری کو ہوئی جو کہ سب بڑے صاحب زادے ہیں

حوالہ جات (اہلِ سنت کے حوالہ جات
الاستیعاب فی معرفة الأصحاب — ابن عبد البر (م 463ھ)
ابن عبد البر لکھتے ہیں:
«ولدته أمه فاطمة بنت رسول الله ﷺ في النصف من شهر رمضان سنة ثلاث من الهجرة، هذا أصح ما قيل في ذلك إن شاء الله.»
ترجمہ: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے امام حسن رضی اللہ عنہ کو 3 ہجری، ماہِ رمضان کے نصف میں پیدا کیا، اور یہی اس بارے میں سب سے صحیح قول ہے۔
حوالہ: الاستیعاب، ج 1، ص 383۔ �

تہذیب الکمال — حافظ مزی (م 742ھ)
امام مزی لکھتے ہیں:
«ولد في النصف من رمضان سنة ثلاث من الهجرة، هذا أصح ما قيل فيه إن شاء الله.»
ترجمہ: آپ 3 ہجری کے نصف رمضان میں پیدا ہوئے، اور یہی اس بارے میں سب سے صحیح قول ہے۔
حوالہ: تہذیب الکمال، ج 6، ص 221۔ �

تاریخ الطبری — امام طبری (م 310ھ)
طبری کے تاریخی بیان میں ہے:
«ولد الحسن بن علي للنصف من رمضان سنة ثلاث من الهجرة.»
ترجمہ: حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ولادت 3 ہجری کے نصف رمضان میں ہوئی۔
حوالہ: تاریخ الطبری، ج 2، ص 537۔ �

البدایہ والنہایہ — حافظ ابن کثیر (م 774ھ)
ابن کثیر نے بھی امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت کے سلسلے میں 3 ہجری کا قول نقل کیا ہے۔)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اس وقت 45 سال

حضرت مولا امام حسین علیہ السّلام کی ولادت باسعادت 4 شعبان المعظم 4 ہجری میں ہوئی

حوالہ جات (. طبقات الکبریٰ — ابن سعد
محمد بن سعد (متوفی 230ھ) لکھتے ہیں:
وَوُلِدَ الْحُسَيْنُ فِي لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةَ أَرْبَعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ۔
ترجمہ: امام حسین رضی اللہ عنہ شعبان 4 ہجری کی ابتدائی راتوں میں پیدا ہوئے۔ �

حوالہ: ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، تذکرہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما۔
2. الاستیعاب — ابن عبدالبر
امام ابن عبدالبر (متوفی 463ھ) بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت 4 ہجری میں بیان کرتے ہیں، اور شعبان کا ذکر کرتے ہیں۔ �

3. البدایہ والنہایہ — ابن کثیر
حافظ ابن کثیر (متوفی 774ھ) نے بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر مبارک ہوئی
46 سال

حضرت بی بی سیدہ زینب بنت علی المرتضیٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت 5 ہجری میں ہوئی

2. ابن حجر عسقلانی — الإصابة في تمييز الصحابة
ابن حجرؒ لکھتے ہیں:
«زينب بنت علي بن أبي طالب بن عبد المطلب الهاشمية سبطة رسول الله ﷺ، أمها فاطمة الزهراء، قال ابن الأثير إنها ولدت في حياة النبي ﷺ...»
ترجمہ:
زینب بنت علی بن ابی طالب ہاشمیہ، رسول اللہ ﷺ کی نواسی تھیں، ان کی والدہ فاطمہ زہراء تھیں۔ ابن الاثیر نے کہا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی حیات میں پیدا ہوئیں۔
حوالہ: الإصابة في تمييز الصحابة، ابن حجر عسقلانی، ج 7، ص 684۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر 47 سال

پانچویں اولاد حضرت بی بی سیدہ ام کلثوم بنت علی المرتضیٰ علیہ السلام کی ولادت باسعادت 6 ہجری میں ہوئی
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر 48سال بنتی ہے سیدہ ام کلثوم بنت علی المرتضیٰ علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے وقت
اب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کی شھادت 23 ہجری میں ہوئی
جو۔ روایت بیان کی جاتی نکاح کی وہ 17 ہجری کو جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ابتدائی سالوں میں
جبکہ سیدہ ام کلثوم بنت علی المرتضیٰ علیہ السلام کی ولادت باسعادت 6 ہجری کو ہوئی تو عمر مبارک 11 سال بنتی ہے جو کہ ناممکن ہے
لہذا جس ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بطن سے پیدا ہوئی جس کی پرورش مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام نے کی تھی لہذا اس بحث میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین ہوتی ہے کہ گیارہ سال کی بچی سے شادی جو کہ ممکن ہی نہیں
##HazartUmar #Muhram #fypシ #fyp #viralreelschallenge #biography #history #islam #islamicpost #IslamicHistory #HazratUmar #hazratali #mihhaj #drtahirulqadriclips #DrTahirUlQadri #Muhammad #muhammadali



سوالات متداول

ام کلثوم کا نکاح چیست؟

در این مطلب اطلاعات، جزئیات و نکات مرتبط با ام کلثوم کا نکاح بررسی شده است.

مهم‌ترین نکات درباره اللہ چیست؟

جزئیات مهم و نکات قابل توجه درباره اللہ در متن مقاله بررسی شده است.

چرا ام کلثوم کا نکاح اهمیت دارد؟

این موضوع به دلیل اطلاعات و کاربردهای مرتبط، مورد توجه کاربران قرار گرفته است.

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

صفحه بندی