خرید بک لینک

عمار بن یاسر کا قتل

ابو سعید خدری کہتے ہیں :

جب مسجد نبوی تعمیر ہو رہی تھی اُس وقت ہم سب تو ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے، لیکن عمار دو دو اینٹیں اُٹھا رہے تھے۔

نبی کریم نے دیکھا تو اُن کے سرے مٹی صاف کی، اور فرمایا :

ويح عمار، تقتله الفئة الباغية، عمار يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ»

افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی، عمار تو انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو گا، اور وہ (باغی) اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے " «

(صحيح البخاري (2812)

امام احمد بن حنبل، اور امام نسائی نے روایت کی ہے کہ:

جنگ صفین میں عمار بن یاسر حضرت علی کی فوج میں شامل تھے، اور معاویہ کی فوج نے انہیں قتل کیا، اور اُن کا سر کاٹ کر معاویہ کو پیش کیا۔

1 مسند أحمد: 6929 إسناده صحيح

2 النسائي في خصائص علي:

Al-Mustadrak Lil Haakim - 4575

کتاب:صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان

باب:امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل

ARABIC:
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: قَالَ مُعَاوِيَةُ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَسُبَّ ابْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: فَقَالَ: لَا أَسُبُّ مَا ذَكَرْتُ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا هُنَّ يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: لَا أَسُبُّهُ مَا ذَكَرْتُ حِينَ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَأَخَذَ عَلِيًّا وَابْنَيْهِ وَفَاطِمَةَ فَأَدْخَلَهُمْ تَحْتَ ثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَ: «رَبِّ، إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» وَلَا أَسُبُّهُ مَا ذَكَرْتُ حِينَ خَلَّفَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: خَلَّفْتَنِي مَعَ الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ، قَالَ: «أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي» وَلَا أَسُبُّهُ مَا ذَكَرْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ» فَتَطَاوَلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيٌّ؟» قَالُوا: هُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ: «ادْعُوهُ» فَدَعَوْهُ فَبَصَقَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَا وَاللَّهِ مَا ذَكَرَهُ مُعَاوِيَةَ بِحَرْفٍ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ الْمُؤَاخَاةِ وَحَدِيثِ الرَّايَةِ»
[التعليق - من تلخيص الذهبي] 4575 - على شرط مسلم فقط

TRANSLATION:
" حضرت عامر بن سعد فرماتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا : تم علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں ان کو سوچ کر میں آپ کی سب و شتم سے رکا رہتا ہوں ۔ اور ان باتوں میں سے کوئی ایک ہی مجھے مل جائے تو میرے نزدیک یہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابواسحاق ! وہ تین چیزیں کیا ہیں ؟
ابواسحاق نے کہا : میں آپ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ ( ایک مرتبہ ) جب حضور ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے حضرت علی ، ان کے دونوں صاحبزادوں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑ کر اپنی چادر میں داخل فرمایا اور کہا : اے میرے رب ! یہ میرے اہل بیت ہیں ۔
اور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو غزوہ تبوک میں شرکت کرنے سے منع فرما دیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے : ( یا رسول اللہ ﷺ ) آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری نسبت میرے ساتھ ویسی ہی ہو جیسی نسبت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ؟ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا ۔
اور میں آپ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر کے دن فرمایا تھا : میں یہ جھنڈا کل اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا ۔ تو ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہاتھ لمبے کرنے لگے ، آپ ﷺ نے فرمایا : علی کہاں ہے ؟لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو بلاؤ ، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو بلایا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے چہرے پر اپنا لعاب دہن لگایا پھر ان کو جھنڈا عطا فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی ( حضرت عامر بن سعد ) فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! اس کے بعد مدینہ سے نکل جانے تک حضرت معاویہ نے ایک لفظ تک نہیں کہا ۔

معاویہ" کے کارنامے ، اہلسنت والجماعت کی کتابون مین، صحیح احادیث کی روشنی مین:

01) معاویہ، نے خطبہ کے دوران حضرت عمر ابن خطاب رضہ کی شان مین گستاخی کی، اس وقت لوگون مین عبداللہ ابن عمر رضہ موجود تھے، مگر فتنے کے ڈر سے عبداللہ ابن عمر رضہ خاموش رہے۔ (صحیح بخاری: 4108)

02) معاویہ، نے رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے خرید و فروخت کے قوانین اور سنت کو رد کر دیا، اور اپنے نئے قوانین بنانے لگا۔ (صحیح مسلم: 4061)
معاویہ، نے رسول اللہ ﷺ کی مال غنیمت کے متعلق سنت اور قانون کو ٹھکرا دیا (صحیح حدیث)

03) معاویہ، اپنے دور میں لوگوں کا مال/پیسہ ناحق طریقے سے ہڑپ کرتا تھا، اور لوگوں کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیتا تھا۔ راوی (عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ رضہ) تابعی۔
(صحیح مسلم: 4776) (صحیح مسلم: 321)

04) معاویہ، کے گھر میں مرد کے لیے سونا، ریشم اور درندوں کی کھالیں پہننا جائز تھا۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سب چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابو داؤد: 4131)

05) معاویہ، کا گورنر مروان بن حکم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سبب بنا۔
(صحیح حدیث)

06) معاویہ، کو حضرت عمر رضہ نے (اللہ کا دشمن، کافر، گمراہ کہا)۔ کیونکہ وقت کے خلفائے راشدین سیدنا علی رضہ سے جن لوگوں نے بغاوت کی وہ یہی لوگ تھے۔
(صحیح مسلم: 1258)

07) معاویہ، کو رسول اللہ ﷺ کی بددعا کہ اللہ اس کا کبھی پیٹ نہ بھرے۔ (صحیح مسلم: 6409)
ایک اور حدیث میں ہے کہ معاویہ کا آگے جا کر پیٹ بڑا ہوگیا زیادہ کھانا کھانے کی وجہ سے، کیونکہ اس کا پیٹ نہیں بھرتا تھا، اور وہ خطبہ بیٹھ کر دیا کرتے تھا، بڑے پیٹ کی وجہ سے اس سے کھڑا نہیں ہوا جاتا تھا۔ (اس سے یہ ثابت ہوا کہ ان کو رسول اللہ ﷺ کی بددعا لگ گئی۔)

08) معاویہ، خود اسلام کے پہلے بحری لشکر میں شامل نہیں تھا، مگر اس کی بیوی شامل تھی، (اس سے یہ ثابت ہوا بہری لشکر والی اس فضیلت میں معاویہ شامل نہیں)۔
(صحیح بخاری: (2800 ، 2877)

09) معاویہ، کے لوگوں نے بغض علی رضہ کی وجہ سے میدان عرفات پر بلند آواز سے تلبیہ کہنا چھوڑ دیا جو کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ (سنن نسائی: 3009)

10) معاویہ، کے گروہ کو (عبداللہ بن عمر رضہ نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے) باغی گروہ قرار دے دیا تھا، جو جنگ جمل اور صفین میں علی رضہ خلفائے راشد کے خلاف کھڑے ہوگئے تھے۔ (مستدرک حاکم: 6360)

11) معاویہ، کی جمعات نے جنگ صفین کے دوران اصحاب رسول ﷺ عمار ابن یاسر رضہ کا قتل کیا، اس وقت عمار ابن یاسر رضہ حضرت علی رضہ کی جمعات کے ساتھ تھے۔
(مسند امام احمد بن حمبل: 17931 اور 16818)
(المسترد الحاکم: 5661)
رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں یہ پیشین گوئی کر دی تھی کہ افسوس، عمار کو ایک باغی جہنم کی طرف بلانے والی جماعت قتل کرے گی۔ عمار اس کو اللہ اور جنت کی طرف بلا رہے ہوں گے، اور وہ جماعت دوزخ کی طرف بلانے والی جماعت ہوگی۔ لیکن معاویہ کی جماعت نے عمار کو شہید کر دیا۔
(صحیح بخاری: 2812، 447) (صحیح مسلم: 7320)

12) معاویہ، نے سیدہ عائشہ رضہ کے بھائی محمد بن ابی بکر کو ناحق قتل کروایا اور ان کی لاش کو آگ لگا دی جب ان کی عمر 30 سال سے بھی کم تھی، کیونکہ یہ سیدنا علی رضہ کا ساتھ دے رہے تھے۔ محمد بن ابی بکر رضہ علی رضہ کی طرف سے مصر کے گورنر تھے۔ (صحیح مسلم: 4722)

13) معاویہ، نے اپنے دور میں سیدہ عائشہ رضہ کے ایک اور بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضہ کو ایک غار میں قتل کروایا اور وہیں چھوڑ دیا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد کسی کو پتہ چلا کہ ان کی لاش ایک غار میں پڑی ہے، تو لوگوں نے وہاں سے اٹھایا، جنازہ پڑھایا، پھر دفنا دیا۔ جب سیدہ عائشہ رضہ کو یہ بات پتہ چلی، تو وہ اپنے بھائی کی قبر پر جا کر بہت روئیں کہ کس طرح ان لوگوں نے میرے بھائیوں کے ساتھ ظلم کیا ہے۔
(صحیح بخاری: 4827) (سنن نسائی الکبریٰ: 11491)

14) معاویہ، نے سیدنا علی رضہ کے ایک قریبی دوست حضرت حجر بن عدی رضہ کو ظالمانہ طور پر قتل کروایا، اور ان کے ساتھیوں کو بھی، صرف اس وجہ سے، کیونکہ وہ لوگ علی رضہ کے ساتھی تھے۔ یہ سب ہونے کے بعد سیدہ عائشہ رضہ نے معاویہ کو بہت سمجھایا کہ تم لوگوں کو ناحق قتل نہ کرو اور ان پر ظلم نہ کرو، لیکن معاویہ پھر بھی نہیں مانا۔
(مسند احمد: 16957) (مستدرک حاکم: 5972، 8038)

15) معاویہ، نے ایک مجلس میں حضرت سعد ابن ابی وقاص رضہ کو حکم دیا کہ تم علی رضہ کو برا بہلا کہو، مگر سعد ابن ابی وقاص رضہ نے منع کر دیا۔ (صحیح مسلم: 6220)

16) معاویہ، کے دور مین اس کے مقرر کردہ گورنر مروان بن حکم نے نماز عید سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا، اس کا مقصد علی رضہ کو گالیان دینا تھا، اگر عید نماز کے بعد خطبہ دیتا تو کچھ لوگ خطبہ سنے بغیر چلے جاتے۔ (صحیح مسلم: 177 ، صحیح بخاری: 956)

17) معاویہ، اور آل امیہ کے دور میں ان کے گورنر حضرت سہل بن سعد السعدی رضہ کو حکم دیتے تھے کہ تم لوگ علی رضہ کو گالی کیوں نہیں دیتے؟ مگر سہل بن سعد سچے محبِ اہل بیت تھے اس لیے انہوں نے کبھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ بھی برا نہیں کہا۔
(صحیح بخاری: 3703، 4251) (صحیح مسلم: 6229)

18) اصحاب رسول اللہ ﷺ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے بنو امیہ (معاویہ) کی بادشاہت کو شریر ترین بادشاہت کہا۔ (جامع ترمذی: 2226)

19) معاویہ، نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ راشد ماننے سے صاف انکار کر دیا۔
(سنن نسائی الکبریٰ: 8575)

20) معاویہ، کے بیٹے یزید کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے سامنے واقعہ کربلا کے بعد حسین بن علی رضہ کا سر کاٹ کر ایک طشت میں رکھا گیا۔ (صحیح بخاری: 3748)

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: يکشنبه 21 تير 1405 ساعت: 1:38

صفحه بندی