خرید بک لینک

غامدی صاحب کے بارے میں ڈاكٹر محمد اكرم ندوى کی رائے

غامدی صاحب کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ
حال ہی میں آسٹریلیا کے اپنے دورے کے دوران مختلف شہروں میں اہلِ علم، طلبہ اور تازه تعلیم یافتہ مسلمانوں نے مجھ سے بار بار یہ سوال کیا کہ برصغیر کے اکثر علماء جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں مثبت رائے کیوں نہیں رکھتے، اور اس سلسلے میں میری اپنی رائے کیا ہے۔
مختلف مجالس میں اس سوال کا بار بار سامنے آنا اس بات کا باعث بنا کہ اس مسئله پر شخصیات، جذبات اور گروہی وابستگیوں کے بجائے علمی دیانت، تاریخی شعور اور اصولی انصاف کی روشنی میں گفتگو کی جائے۔ ذیل میں اسی سوال کے جواب میں اپنے نقطۂ نظر کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے برصغیر کی دینی روایت اور اس کے علمی مزاج کو سمجھنا ضروری ہے۔ برصغیر میں عمومی طور پر روایت پسندی کا رجحان غالب رہا ہے، اور صدیوں سے رائج فقہی، کلامی اور صوفیانہ تعبیرات کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس ماحول میں جب بھی کوئی عالم کسی مسئلے کی ایسی تعبیر پیش کرتا ہے جو مروجہ آرا سے مختلف ہو، تو اسے عموماً جدت پسند، مغرب زدہ یا منحرف قرار دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلامی علمی روایت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ تعبیر، اجتہاد اور فہمِ دین میں اختلاف ہمیشہ سے اہلِ علم کے درمیان موجود رہا ہے، اور اسے علمی زندگی کا ایک فطری مظہر سمجھا گیا ہے، نہ کہ دین سے انحراف کی علامت۔
مزید برآں، ہمارے دینی ماحول میں متعدد ایسی تعبیرات رائج ہیں جن کے بارے میں خود جلیل القدر علما کے درمیان بنیادی اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر وحدت الوجود کا نظریہ صدیوں سے اسلامی تصوف کے ایک بڑے طبقے میں مقبول رہا ہے، جبکہ متعدد ممتاز علماء نے اسے قرآن و سنت کے منافی، بلکہ بعض صورتوں میں کفر تک قرار دیا ہے۔ اسی طرح بعض صوفیانہ حلقوں میں اپنے بزرگوں کے لیے قطب، غوث اور قیوم جیسے القابات استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ بہت سے محققین انہیں شرک سے قریب یا کم از کم غیر محتاط تعبیرات قرار دیتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تعبیرات کا اختلاف اسلامی علمی روایت کی ایک مستقل حقیقت ہے۔ اس لیے اگر کسی عالم کی بعض آرا سے اختلاف ہو تو اسے علمی دائرے میں رکھنا چاہیے، نہ کہ اس کی بنیاد پر اس کی مجموعی علمی حیثیت کا انکار کر دیا جائے۔
اسی تناظر میں اگر جاوید احمد غامدی صاحب کے افکار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں برصغیر کے بہت سے علماء کو ان سے اختلاف ہے، ان میں سے بیشتر کا تعلق تعبیر، اجتہاد اور فقہی و فکری فروعات سے ہے، نہ کہ اصولِ دین یا قطعی ايمانيات سے۔ یقیناً ان کی بعض آراء روایتی نقطۂ نظر سے مختلف ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں سے اکثر آراء ایسی نہیں جن میں وہ اسلامی علمی روایت میں بالکل منفرد ہوں۔ مختلف ادوار میں متعدد اہلِ علم نے ان سے ملتے جلتے افکار پیش کیے ہیں۔ لہٰذا کسی رائے کو صرف اس لیے ناقابلِ قبول قرار دینا کہ وہ مروجہ تعبیر سے مختلف ہے، علمی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
میرا اصول ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہر وہ عالم یا مفکر جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین سے قریب کرے، ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا علمی ازالہ کرے، اور اپنے عہد کے فکری چیلنجز کا سنجیدگی سے جواب دینے کی کوشش کرے، وہ اپنی خدمات کے اعتبار سے قابلِ قدر ہے۔ کسی عالم کی قدر کا معیار صرف یہ نہیں کہ اس کی ہر رائے سے اتفاق کیا جائے، بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس نے اپنے دور کے انسان کو دین سے جوڑنے میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کیا۔
اس معیار کی روشنی میں میرے نزدیک جاوید احمد غامدی صاحب کی خدمات قابلِ اعتراف ہیں۔ خصوصاً مشرق اور مغرب میں تازه تعلیم یافتہ طبقے کے بے شمار افراد نے ان کی تحریروں، دروس اور خطابات سے استفادہ کیا ہے۔ بہت سے ایسے نوجوان، جو نوین فکری اعتراضات، سائنسی مباحث یا مغربی فلسفے کے زیرِ اثر دین کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے، انہیں غامدی صاحب کی علمی کاوشوں کے ذریعے اسلام کو نئے زاویۂ نگاہ سے سمجھنے کا موقع ملا۔ اس خدمت کا اعتراف کرنا علمی دیانت کا تقاضا ہے، خواہ کسی شخص کو ان کی تمام آراء سے اتفاق نہ بھی ہو۔
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی عالم کی علمی خدمات کا اعتراف اس کی ہر رائے کو درست قرار دینے کے مترادف نہیں۔ اگر غامدی صاحب کی کسی رائے سے علمی اختلاف ہو تو اسے دلیل، تحقیق اور حسنِ اخلاق کے ساتھ ضرور بیان کیا جانا چاہیے۔ تاہم یہ اصول صرف انہی کے لیے مخصوص نہیں ہونا چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جس معیار پر غامدی صاحب کی آراء کا جائزہ لیا جاتا ہے، اسی معیار پر دیگر علماء کی آراء کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اگر روایتی علماء کی تعبیرات کو تنقید سے بالاتر سمجھ لیا جائے، جبکہ صرف ایک شخصیت کو مسلسل علمی تنقید کا ہدف بنایا جائے، تو یہ رویہ علمی دیانت اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔
اسلامی تہذیب کی علمی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے کہ فقہ، تفسیر، حدیث اور علمِ کلام کے میدانوں میں ائمۂ امت کے درمیان گہرے اختلافات موجود رہے، لیکن ان اختلافات نے کبھی باہمی احترام، حسنِ ظن اور علمی وقار کو مجروح نہیں کیا۔ اختلاف کو ہمیشہ حقیقت تک رسائی، علمی ارتقا اور فکری پختگی کا ذریعہ سمجھا گیا، نہ کہ شخصیت کشی، گروہ بندی یا باہمی نفرت کا وسیلہ۔ ہمارے معاصر دینی ماحول کو بھی اسی علمی روایت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب سے اختلاف کرنا ہر صاحبِ علم کا حق ہے، بلکہ اگر یہ اختلاف دلیل، تحقیق اور علمی اصولوں کی بنیاد پر ہو تو وہ ایک صحت مند علمی روایت کی علامت ہے۔ تاہم محض چند اجتہادی یا تعبیری اختلافات کی بنیاد پر ان کی مجموعی علمی خدمات کا انکار کرنا یا انہیں انحراف کا عنوان دینا انصاف اور اعتدال کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ افراد کے بجائے دلائل کو معیار بنایا جائے، اور جس میزان پر ہم غامدی صاحب کی آراء کو پرکھتے ہیں، اسی میزان پر دیگر علماء کی آراء کا بھی جائزہ لیا جائے۔ یہی رویہ امت میں علمی توازن، فکری وسعت اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر معاملے میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے، اختلافِ رائے میں وسعتِ ظرف اور حسنِ اخلاق اختیار کرنے، دوسروں کی علمی خدمات کی قدر کرنے، اور ہمارے دلوں کو تعصب، حسد اور گروہی عصبیت سے پاک رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک زندہ علمی روایت اور ایک صالح معاشرے کی حقیقی بنیاد ہیں۔
1/8/2026

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

صفحه بندی