نبی پاک کی شہادت ہوئی یا وفات؟
تحقیق: ابومہدی فرمان علی معصومی
اہل سنت حضرات کا نظریہ ہے کہ نبی پاک کی شہادت نہیں ہوئی بلکہ وفات ہوئی تھی جبکہ اہل تشیع اس نظریہ پر ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔
ہم آ پ کے سامنے چند شواہد پیش کرتے ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔
1ـ نبی پاک کو زہر دے کر شہید کیا گیا:
الف:خیبر کے موقع پر زینب بنت الحارث کے ہاتھوں زہر دیا گیا:
اہل سنت کے معتبر عالم بدر الدین عینی نے اپنی کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:
عمده القاري شرح صحيح البخاري
كتاب الطب
55 - (بابُ مَا يُذْكَرُ فِي سَمِّ النبيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم)
وأوضح ذَلِك مَا تقدم فِي الْهِبَة من حَدِيث أنس أَن يَهُودِيَّة أَتَت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، بِشَاة مَسْمُومَة فَأكل مِنْهَا الحَدِيث، فَعلم من ذَلِك أَن الَّتِي أَهْدَت هِيَ امْرَأَة يَهُودِيَّة وَلَكِن لَيْسَ فِيهِ بَيَان اسْمهَا، وَقد تقدم فِي الْمَغَازِي أَنَّهَا زَيْنَب بنت الْحَارِث امْرَأَة سَلام بن مشْكم، فَعلم مِنْهُ أَن اسْمهَا زَيْنَب.
سب سے واضح بات وہ ہے جو انس بن مالک کی حدیث میں گذر چکا کہ ایک یہودی عورت نبی پاک کے پاس بکری کا زہر آلود لے آئی اور نبی پاک نے اس سے کچھ کھالیا تو یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ جس عورت نے ھدیہ دیا تھا وہ ایک یہودی عورت تھی لیکن اس میں اس کا نام نہیں بتایا گیا ہے جبکہ کتاب المغازی میں گذر چکا کہ وہ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث تھی، یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نام زینب ہے۔
ب ـ نبی پاک نے خود زہر کا ذکر فرمایا:
نبی پاک نے مرض الموت کے وقت واضح طور پہ فرمایا کہ میری تکلیف اسی زہر کی وجہ سے بڑھ رہی ہے جو خیبر کے موقع پر دیا گیا!
ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں:
صحيح البخاري (جلد6/صفحه 9)
64 - كِتَابُ المَغَازِي
بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ
4428 - وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ»
نبی پاک اپنے مرض الموت میں فرماتے رہے : اے عائشہ! جو کھانا میں نے خیبر کے موقع پر کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے پھر یہ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اسی زہر کی وجہ سے میری شہ رگ کٹ رہی ہے۔
یعنی مرض الموت کے وقت موت کا سبب یہی زہر تھا جو خیبر کے وقت زینب بن الحارث نے دیا تھا۔
2ـ بزرگان اہل سنت کی اس بات پر تاکید کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی ہے:
الف: عبداللہ بن مسعود:
المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 60)
4394 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لِأَنْ أَحْلِفُ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً إِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
✅ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4394 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں نو مرتبہ قسم کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید کیا گیا ہے لیکن ایک بار بھی یہ قسم نہیں کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید نہیں کیا گیا ہے اور یہی سبب ہے کہ اللہ پاک نے محمد مصطفی ص کو نبی بھی منتخب کیا اور شہید بھی منتخب کیا۔
یہ حدیث بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے ۔
علامہ ذہبی حاشیہ میں لکھتے ہیں یہ روایت بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے۔
بـ عامر الشعبی:
المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 61)
4395 - فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ غَيْرَ مَرَّةٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَقَدْ سُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُمَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَبْرًا، وَقُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ صَبْرًا، وَقُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَبْرًا، وَسُمَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ صَبْرًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمَا نَرْجُو بَعْدَهُمْ»
شعبی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! نبی پاک کو زہر دیا گیا ہے اور ابوبکر کو زہر دیا گیا ہے اور عمر کو قتل کیا گیا کہ وہ صبر کی حالت میں تھا اور عثمان کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور علی بن ابی طالب کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور امام حسن بن علی کو زہر دیا گیا اور حسین بن علی کو صبر کی حالت میں قتل کیا گیا (رضی اللہ عنھم)اس کے بعد ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟!
3ـ علماء اہل سنت کی تصریح:
علماء اہل سنت نے واضح طور پہ لکھا ہے کہ نبی پاک کی شہادت ہوئی ہے۔
الفـ علی بن عبد الکافی السبکی
شفاء السقام في زيارة خير الأنام صلى الله عليه وآله وسلم
جلد 2 صفحه 14
الثالث: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم شهيد، فإنه صلى الله عليه وآله وسلم لما سم بخيبر، وأكل من الشاة المسمومة، وكان ذلك سما قاتلا من ساعته، مات منه بشر بن البراء رضي الله عنه، وبقي النبي صلى الله عليه وآله وسلم وذلك معجزة في حقه، صار ألم السم يتعاهده إلى أن مات به صلى الله عليه وآله وسلم [وقال] في مرضه الذي مات فيه: (ما زالت أكلة خيبر تعاودني حتى كان الآن أوان قطعت أبهري). قال العلماء: فجمع الله له بذلك بين النبوة والشهادة. وتكون الحياة الثابتة للشهداء لا تختص بمن قتل في المعركة، فإنا إنما اشترطنا ذلك في الأحكام الدنيوية، كالغسل، والصلاة، أما الآخرة فلا، وهذا لا شك فيه بالنسبة إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم.
علامہ سبکی لکھتے ہیں: بے شک نبی پاک ص شہید ہیں کیونکہ نبی پاک کو خیبر کے موقع پہ ذہر دیا گیا تھا اور زہر آلود بکری کا گوشت کھایا یہ وہ زہر تھا جو ایک لحظہ میں مار دیتا ہے جس سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی اور نبی پاک بچ گئے کہ یہ در حقیقت نبی پاک کے حق میں ایک معجزہ ہے، موت کے وقت تک یہ زہر کا درد نبی پاک کو ہوتا رہتا تھا کہ نبی پاک نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے)۔ علماء نے کہا ہے: نبی پاک کے لیے اللہ تعالی نے نبوت اور شھادت دونوں کو جمع کردیا۔ شہداء کی جو زندگی اور حیاتی ہے وہ ایسے شہیدوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جو جنگ کے میدان میں شہید ہوتے ہیں البتہ اتنا ہے کہ ہمارے ہاں میدان شہید ہونے والوں کے دنیاوی احکام الگ ہیں جیساکہ غسل اور نماز لیکن آخرت میں الگ نہیں ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی پاک بھی شہید ہیں (چہ جائیکہ ان کے لیے جنگی شہید والے احکام نہیں ہیں)۔
ب ـ ابن بطال:
شرح صحيح البخارى لابن بطال (جلد 5/صفحه 347)
كتاب الجزية
7 - باب: إِذَا غَدَرَ المشْرِكُون بِالْمُسْلِمِينَ هَلْ يُعْفَى عَنْهُم؟
قال لعائشة: (ما زالت أكلة خيبر تعادنى فهذا أوان قطع أبهري) لكنه عفا عنهم حين لم يعلم أنه يقضى عليه؛ لأن الله تعالى دفع عنه ضر السم بعد أن أطلعه على المكيدة فيه بآية معجزة أظهرها له من كلام الذراع، ثم عصمه الله من ضره مدة حياته، حتى إذا دنا أجله بغى عليه السم، فوجد ألمه وأراد الله له الشهادة بتلك الأكلة؛ فلذلك لم يعاقبهم
ابن بطال لکھتے ہیں: نبی پاک نے ام المومنین عائشہ کو بتایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے) لیکن نبی پاک نے انہیں (یہودیوں کو) معاف کردیا اور معلوم نہ ہونے تک ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالی نے زہر کے نقصان کو دور کردیا پھر نبی پاک کو اللہ تعلای نے معجزانہ طور پر اس کید و فریب سے آگاہ فرمایا کہ بکری کی بھونی ہوئی ٹانگ سے آواز ائی کہ وہ زہر الود ہے پھر اللہ تعالی نے زہر کے نقصان سے تا حیات نبی پاک کو بچایا یہاں تک کہ موت کا وقت آن پہنچا تو زہر نے شدت اختیار کرلی اور اس کا درد محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی نے نبی پاک کے لیے اسی کھانے کے بدلے شہادت نصیب فرمائی جس کی وجہ سے ان یہودیوں کو سزا اور عقاب نہیں کیا۔
ج_ عبدالعزیز بن باز
فتح الباري، المؤلف : أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى : 852هـ)، المحقق : عبد العزيز بن عبد الله بن باز ومحب الدين الخطيب
جلد 8 صفحہ 131
وروى ابن سعد عن شيخه الواقدي بأسانيد متعددة في قصة الشاة التي سمت له بخيبر، فقال في آخر ذلك: "وعاش بعد ذلك ثلاث سنين حتى كان وجعه الذي قبض فيه. وجعل يقول: ما زلت أحد ألم الأكلة التي أكلتها بخيبر عدادا حتى كان هذا أوان انقطاع أبهري" عرق في الظهر وتوفي شهيدا انتهى
بن باز فتح الباری کے تحقیقی نسخہ میں لکھتے ہیں:
محمد بن سعد نے اپنے استاد واقدی سے زہر آلود بکری کے قصہ میں کئی اسناد سے نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں کہا ہے: نبی پاک اس کے بعد تین سال زندہ رہے یہاں تک کہ زہر کا درد ہوا جس سے ان کی روح قبض ہوئی اور فرماتے رہے: میں نے خیبر کے موقع پہ جو زہر آلود لقمہ کھایا تھا اس کا درد کئی بار ہوا مگر اس بار جو درد ہورہا ہے وہ شہ رگ کو کاٹ رہا ہے! اور یوں نبی پاک نے بطور شہادت وفات پائی
تعلیماتِ اہلبیتؑ
برچسب:
نویسنده: آریا رضوانی