خرید بک لینک

*چالیس احادیث از امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام*

۱۔ عقل اور ادب

امام حسن سے مروی چالیس احادیث

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

لَا أَدَبَ لِمَنْ لَا عَقْلَ لَهُ۔

ترجمہ:

جس شخص میں عقل نہیں، اس میں ادب بھی نہیں۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔

________________________________________

۲۔ بخل کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بخل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا:

أَنْ تَرَى مَا فِي يَدَيْكَ شَرَفًا، وَمَا أَنْفَقْتَ تَلَفًا۔

ترجمہ:

بخل یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود مال کو باعثِ عزت سمجھے اور جو کچھ خرچ کرے اسے ضائع شدہ تصور کرے۔

ماخذ: وسائل الشیعة، ج ۱۶، ص ۵۳۹، ح ۱۔

۳۔ بزدلی کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بزدلی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

الجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ، وَالنُّكُولُ عَنِ العَدُوِّ۔

ترجمہ:

بزدلی یہ ہے کہ آدمی دوست کے مقابلے میں بے جا دلیری دکھائے اور دشمن کے مقابلے سے پسپا ہو جائے۔

۴۔ جہالت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے جہالت کی حقیقت دریافت کی گئی تو فرمایا:

سُرْعَةُ الوُثُوبِ عَلَى الفُرْصَةِ قَبْلَ الاسْتِمْكَانِ مِنْهَا، وَالامْتِنَاعُ عَنِ الجَوَابِ۔

ترجمہ:

جہالت یہ ہے کہ انسان کسی موقع کو پوری طرح اپنے اختیار میں آنے سے پہلے ہی اس پر جھپٹ پڑے اور جہاں جواب دینا چاہیے وہاں جواب دینے سے گریز کرے۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔

۵۔ حلم کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے حلم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

كَظْمُ الغَيْظِ وَمِلْكُ النَّفْسِ۔

ترجمہ:

حلم یہ ہے کہ انسان اپنے غصے کو پی جائے اور اپنے نفس پر قابو رکھے۔

۶۔ اللہ کی بندگی کا ثمر

مَنْ عَبَدَ اللّهَ عَبَّدَ اللّهُ لَهُ كُلَّ شَيْءٍ۔

ترجمہ:

جو شخص اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ہر چیز کو مسخر کر دیتا ہے۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۸۔

۷۔ دعا اور اجابت

مَا فَتَحَ اللّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أَحَدٍ بَابَ مَسْأَلَةٍ فَخَزَنَ عَنْهُ بَابَ الإِجَابَةِ۔

ترجمہ:

اللہ عزوجل جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھولتا ہے، اس کے لیے قبولیت کا دروازہ بند نہیں کرتا۔

۸۔ دعا کی قبولیت

أَنَا الضَّامِنُ لِمَنْ لَمْ يَهْجُسْ فِي قَلْبِهِ إِلَّا الرِّضَا أَنْ يَدْعُوَ اللّهَ فَيُسْتَجَابَ لَهُ۔

ترجمہ:

میں اس شخص کے لیے ضمانت دیتا ہوں جس کے دل میں اللہ کی رضا کے سوا کوئی اور خواہش نہ ہو کہ وہ اللہ سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۵، ص ۳۵۱، ح ۴۳۔

۹۔ قرآن اور قبولیتِ دعا

مَنْ قَرَأَ القُرْآنَ كَانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ مُجَابَةٌ، إِمَّا مُعَجَّلَةً وَإِمَّا مُؤَجَّلَةً۔

ترجمہ:

جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے لیے ایک مستجاب دعا ہوتی ہے؛ خواہ اس کی قبولیت جلد ظاہر ہو یا مؤخر ہو کر۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۳، ص ۳۱۳، ح ۱۷۔

۱۰۔ اللہ کے انتخاب پر رضا

مَنْ اتَّكَلَ عَلَى حُسْنِ الاخْتِيَارِ مِنَ اللّهِ، لَمْ يَتَمَنَّ أَنَّهُ فِي غَيْرِ الحَالِ الَّتِي اخْتَارَهَا اللّهُ لَهُ۔

ترجمہ:

جو شخص اللہ کے حسنِ انتخاب پر بھروسا رکھتا ہے، وہ اس حالت کے علاوہ کسی دوسری حالت کی تمنا نہیں کرتا جسے اللہ نے اس کے لیے منتخب کیا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۶، ح ۶۔

۱۱۔ تقدیرِ الٰہی پر رضا

كَيْفَ يَكُونُ المُؤْمِنُ مُؤْمِنًا وَهُوَ يَسْخَطُ قِسْمَتَهُ، وَيُحَقِّرُ مَنْزِلَتَهُ، وَالحَاكِمُ عَلَيْهِ اللّهُ؟

ترجمہ:

مؤمن حقیقی مؤمن کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ وہ اپنی قسمت پر ناراض اور اپنی حالت کو حقیر سمجھتا ہو، حالانکہ اس پر حکم چلانے والا اللہ ہے؟

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۴۳، ص ۳۵۱، ح ۲۵۔

۱۲۔ زکوٰۃ اور مال

مَا نَقَصَتْ زَكَاةٌ مِنْ مَالٍ قَطُّ۔

ترجمہ:

زکوٰۃ نے کبھی کسی مال کو کم نہیں کیا۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۶، ص ۲۳، ح ۵۶۔

۱۳۔ بیٹی کے لیے شوہر کا انتخاب

ایک شخص نے اپنی بیٹی کے نکاح کے بارے میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے مشورہ کیا تو آپؑ نے فرمایا:

زَوِّجْهَا مِنْ رَجُلٍ تَقِيٍّ، فَإِنَّهُ إِنْ أَحَبَّهَا أَكْرَمَهَا، وَإِنْ أَبْغَضَهَا لَمْ يَظْلِمْهَا۔

ترجمہ:

اپنی بیٹی کا نکاح کسی متقی شخص سے کرو؛ کیونکہ اگر وہ اسے پسند کرے گا تو عزت و اکرام سے رکھے گا، اور اگر اسے ناپسند بھی کرے گا تو اس پر ظلم نہیں کرے گا۔

ماخذ: مكارم الأخلاق، ج ۱، ص ۴۴۶، ح ۱۵۳۴۔

۱۴۔ سوال کرنے کی ضرورت

إِنَّ المَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: دَمٍ مُفْجِعٍ، أَوْ دَيْنٍ مُقْرِحٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔

ترجمہ:

کسی سے مالی مدد طلب کرنا صرف تین صورتوں میں جائز ہے:

۱۔ خون بہا کی ادائیگی کی ضرورت ہو؛

۲۔ ایسا سخت قرض ہو جس نے انسان کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہو؛

۳۔ انتہائی فقر و فاقہ لاحق ہو۔

۱۵۔ سوال سے پہلے عطا کرنا

الإِعْطَاءُ قَبْلَ السُّؤَالِ مِنْ أَكْبَرِ السُّؤْدُدِ۔

ترجمہ:

کسی کے سوال کرنے سے پہلے اسے عطا کرنا اعلیٰ درجے کی بزرگی ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔

۱۶۔ شجاعت کی حقیقت

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے شجاعت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

مُوَاقَفَةُ الأَقْرَانِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الطِّعَانِ۔

ترجمہ:

شجاعت یہ ہے کہ ہم پلہ حریف کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے اور معرکے میں ضربیں سہتے ہوئے ثابت قدم رہا جائے۔

ماخذ: تحف العقول، ص ۲۲۶۔

۱۷۔ تشیع کا حقیقی مفہوم

ایک شخص نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے کہا: "میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں۔" آپؑ نے فرمایا:

يَا عَبْدَ اللّهِ، إِنْ كُنْتَ لَنَا فِي أَوَامِرِنَا وَزَوَاجِرِنَا مُطِيعًا، فَقَدْ صَدَقْتَ...

ترجمہ:

اے بندۂ خدا! اگر تم ہمارے اوامر کی پیروی اور ہماری نواہی سے اجتناب کرتے ہو تو تمہارا یہ دعویٰ درست ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے تو اپنے گناہوں میں یہ ایک اور گناہ شامل نہ کرو کہ ایسی عظیم منزلت کا دعویٰ کرو جس کے اہل نہیں ہو۔

یہ کہنے کے بجائے کہ "میں تمہارے شیعوں میں سے ہوں"، یوں کہو: "میں تم سے محبت کرنے والوں میں سے ہوں، تمہارے دوستوں سے محبت کرتا ہوں اور تمہارے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہوں۔" ایسی صورت میں تم خیر پر ہو اور خیر ہی کی طرف گامزن ہو۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۶۔

۱۸۔ خاموشی کا وقار

قَدْ أَكْثَرَ مِنَ الهَيْبَةِ الصَّامِتُ۔

ترجمہ:

خاموش رہنے والا شخص زیادہ باوقار ہوتا ہے۔

۱۹۔ خاموشی کی افادیت

نِعْمَ العَوْنُ الصَّمْتُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ كُنْتَ فَصِيحًا۔

ترجمہ:

بہت سے مواقع پر خاموشی بہترین مددگار ثابت ہوتی ہے، خواہ تم کتنے ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو۔

۲۰۔ مصیبت اور اجر

المَصَائِبُ مَفَاتِيحُ الأَجْرِ۔

ترجمہ:

مصیبتیں اجر کے دروازے کھولنے والی چابیاں ہیں۔

۲۱۔ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک

صَاحِبِ النَّاسَ مِثْلَ مَا تُحِبُّ أَنْ يُصَاحِبُوكَ بِهِ۔

ترجمہ:

لوگوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔

ماخذ: أعلام الدين، ص ۲۹۷۔

۲۲۔ عقل اور دونوں جہان

بِالعَقْلِ تُدْرَكُ الدَّارَانِ جَمِيعًا، وَمَنْ حُرِمَ مِنَ العَقْلِ حُرِمَهُمَا جَمِيعًا۔

ترجمہ:

عقل کے ذریعے دنیا و آخرت، دونوں جہان حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور جو عقل سے محروم رہا وہ دونوں جہانوں کی خیر سے محروم رہا۔

ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔

۲۳۔ عقل اور صبر

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

التَّجَرُّعُ لِلغُصَّةِ حَتَّى تَنَالَ الفُرْصَةَ۔

ترجمہ:

عقل یہ ہے کہ انسان تلخیوں کو برداشت کرتا رہے، یہاں تک کہ مناسب موقع حاصل ہو جائے۔

ماخذ: معاني الأخبار، ص ۲۴۰، ح ۱۔

۲۴۔ عقل اور امانتِ قلب

امام علی علیہ السلام نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے فرمایا:

حِفْظُ قَلْبِكَ مَا اسْتَوْدَعْتَهُ۔

ترجمہ:

عقل یہ ہے کہ تمہارا دل ان چیزوں کی حفاظت کرے جو تم نے اس کے سپرد کی ہیں۔

۲۵۔ عادات کا غلبہ

العَادَاتُ قَاهِرَاتٌ، فَمَنِ اعْتَادَ شَيْئًا فِي سِرِّهِ وَخَلَوَاتِهِ، فَضَحَهُ فِي عَلَانِيَتِهِ وَعِنْدَ المَلَإِ۔

ترجمہ:

عادتیں انسان پر غالب آ جاتی ہیں۔ جو شخص خلوت اور تنہائی میں کسی کام کا عادی ہو جائے، وہی عادت بالآخر اسے لوگوں کے سامنے رسوا کر دیتی ہے۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۱۳۔

۲۶۔ غفلت کی حقیقت

الغَفْلَةُ تَرْكُكَ المَسْجِدَ، وَطَاعَتُكَ المُفْسِدَ۔

ترجمہ:

غفلت یہ ہے کہ تم مسجد کو چھوڑ دو اور کسی مفسد و بدکردار شخص کی اطاعت اختیار کر لو۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۰۔

۲۷۔ فرائض کا فلسفہ

إِنَّ اللّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِمَنِّهِ وَرَحْمَتِهِ لَمَّا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الفَرَائِضَ لَمْ يَفْرِضْهَا عَلَيْكُمْ لِحَاجَةٍ مِنْهُ إِلَيْكُمْ، بَلْ رَحْمَةً مِنْهُ عَلَيْكُمْ... لِيُمَيِّزَ الخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ، وَلِيَبْتَلِيَ مَا فِي صُدُورِكُمْ، وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ۔

ترجمہ:

اللہ عزوجل نے اپنے فضل و رحمت سے جب تم پر فرائض عائد کیے تو انہیں اس لیے فرض نہیں کیا کہ اسے تمہاری ضرورت تھی، بلکہ یہ تم پر اس کی رحمت ہے؛ تاکہ پاکیزہ کو ناپاک سے جدا کرے، تمہارے سینوں کے اندر موجود چیزوں کو آزمائے اور تمہارے دلوں کو پاک و خالص کرے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۳، ص ۹۹، ح ۳۔

۲۸۔ تفکر اور بصیرت

التَّفَكُّرُ حَيَاةُ قَلْبِ البَصِيرِ۔

ترجمہ:

غور و فکر صاحبِ بصیرت کے دل کی زندگی ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۱۔

۲۹۔ تفکر؛ خیر کی بنیاد

أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللّهِ وَإِدَامَةِ التَّفَكُّرِ؛ فَإِنَّ التَّفَكُّرَ أَبُو كُلِّ خَيْرٍ وَأُمُّهُ۔

ترجمہ:

میں تمہیں تقوائے الٰہی اور مسلسل غور و فکر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ تفکر ہر خیر کا باپ بھی ہے اور ماں بھی۔

ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۱، ص ۵۲۔

۳۰۔ قناعت اور رضا

اعْلَمْ أَنَّ مُرُوَّةَ القَنَاعَةِ وَالرِّضَا أَكْثَرُ مِنْ مُرُوَّةِ الإِعْطَاءِ۔

ترجمہ:

جان لو کہ قناعت اور رضا کی مروّت، عطا و بخشش کی مروّت سے بھی برتر ہے۔

۳۱۔ معرفتِ الٰہی اور تواضع

لَا يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَعَاظَمَ، فَإِنَّ رِفْعَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَوَاضَعُوا، وَعِزَّ الَّذِينَ يَعْرِفُونَ مَا جَلَالُ اللّهِ أَنْ يَتَذَلَّلُوا لَهُ۔

ترجمہ:

جو شخص اللہ کی عظمت کو پہچان لے، اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ خود کو بڑا سمجھے۔ جو لوگ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوتے ہیں، ان کی رفعت تواضع میں ہے، اور جو اس کے جلال کو پہچانتے ہیں، ان کی عزت اللہ کے سامنے فروتنی اختیار کرنے میں ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۴، ح ۳۔

۳۲۔ کھانے کے آداب

فِي المَائِدَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً يَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَعْرِفَهَا: أَرْبَعٌ مِنْهَا فَرْضٌ، وَأَرْبَعٌ سُنَّةٌ، وَأَرْبَعٌ تَأْدِيبٌ...

ترجمہ:

دسترخوان کے بارہ آداب ہیں جنہیں ہر مسلمان کو جاننا چاہیے: ان میں سے چار فرض، چار سنت اور چار آداب ہیں۔

فرض: معرفت، رضا، تسمیہ اور شکر۔

سنت: کھانے سے پہلے وضو کرنا، بائیں جانب بیٹھنا، تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا۔

آداب: اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا رکھنا، اچھی طرح چبانا اور کھاتے وقت دوسروں کے چہروں کو کم دیکھنا۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۳، ص ۳۰۵، ح ۲۳۔

۳۳۔ علم سیکھنا اور سکھانا

عَلِّمِ النَّاسَ وَتَعَلَّمْ عِلْمَ غَيْرِكَ، فَتَكُونَ قَدْ أَتْقَنْتَ عِلْمَكَ وَعَلِمْتَ مَا لَمْ تَعْلَمْ۔

ترجمہ:

لوگوں کو علم سکھاؤ اور دوسروں کا علم بھی سیکھو؛ اس طرح تم اپنے علم کو پختہ کرو گے اور وہ کچھ جان لو گے جس سے پہلے ناواقف تھے۔

ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔

۳۴۔ غصہ اور درست رائے

لَا يَعْزِبُ الرَّأْيُ إِلَّا عِنْدَ الغَضَبِ۔

ترجمہ:

غصے کے وقت درست رائے انسان سے دور ہو جاتی ہے۔

ماخذ: نزهة الناظر، ص ۷۲، ح ۱۴۔

۳۵۔ علم اور ذمہ داری

قَطَعَ العِلْمُ عُذْرَ المُتَعَلِّمِينَ۔

ترجمہ:

علم نے علم حاصل کرنے والوں کے تمام عذر ختم کر دیے ہیں۔

ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۶۔

۳۶۔ آخرت کی تیاری

يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَمْ تَزَلْ فِي هَدْمِ عُمُرِكَ مُنْذُ سَقَطْتَ مِنْ بَطْنِ أُمِّكَ، فَخُذْ مِمَّا فِي يَدَيْكَ لِمَا بَيْنَ يَدَيْكَ؛ فَإِنَّ المُؤْمِنَ يَتَزَوَّدُ، وَالكَافِرَ يَتَمَتَّعُ۔

ترجمہ:

اے ابنِ آدم! جب سے تو اپنی ماں کے بطن سے دنیا میں آیا ہے، اسی وقت سے تیری عمر کم ہوتی جا رہی ہے۔ لہٰذا جو کچھ تیرے پاس ہے، اسے اس منزل کے لیے استعمال کر جو تیرے سامنے ہے؛ کیونکہ مؤمن زادِ راہ تیار کرتا ہے، جبکہ کافر محض دنیاوی لذتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۲، ح ۶۔

۳۷۔ دل کی سلامتی

أَسْلَمُ القُلُوبِ مَا طَهُرَ مِنَ الشُّبُهَاتِ۔

ترجمہ:

سب سے زیادہ سلامت دل وہ ہے جو شکوک و شبہات سے پاک ہو۔

ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۵۔

۳۸۔ سخاوت کی حقیقت

الابْتِدَاءُ بِالعَطِيَّةِ قَبْلَ المَسْأَلَةِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ فِي المَحْلِ۔

ترجمہ:

سخاوت یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے عطا کیا جائے اور قحط و تنگ دستی کے زمانے میں لوگوں کو کھانا کھلایا جائے۔

ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۲، ح ۲۔

۳۹۔ احسان جتانا

مَنْ عَدَّدَ نِعَمَهُ مَحَقَ كَرَمَهُ۔

ترجمہ:

جو شخص اپنی عطاؤں اور احسانات کو شمار کراتا رہے، وہ اپنی سخاوت کی قدر و نرخ مٹا دیتا ہے۔

۴۰۔ دنیا کی رغبت

الرَّاغِبُ فِيهَا عَبْدٌ لِمَنْ يَمْلِكُهَا۔

ترجمہ:

جو شخص دنیا کا حریص ہو، وہ اس شخص کا غلام بن جاتا ہے جو دنیا کا مالک ہے۔

ماخذ: كنز العمّال، ج ۱۶، ص ۲۱۴، ح ۴۴۲۳۶۔

ترجمه و ترتیب و پیشکش: فرقان اکیڈمی

التماس دعا: ڈاکٹر محمد فرقان گوہر



سوالات متداول

مهم‌ترین نکات درباره مجتبی چیست؟

جزئیات مهم و نکات قابل توجه درباره مجتبی در متن مقاله بررسی شده است.

امام حسن سے مروی چالیس احادیث چیست؟

در این مطلب اطلاعات، جزئیات و نکات مرتبط با امام حسن سے مروی چالیس احادیث بررسی شده است.

چرا امام حسن سے مروی چالیس احادیث اهمیت دارد؟

این موضوع به دلیل اطلاعات و کاربردهای مرتبط، مورد توجه کاربران قرار گرفته است.

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: سه شنبه 10 شهريور 1405 ساعت: 10:25

صفحه بندی