اگر بات کو آسان ہی کرنا ہے تو اتنا کہہ دیں کہ زمیں کے گرد والی فضا 107000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کر رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ سائنس کہتی ہے زمین اپنے ایکسس یعنی سرکل میں حرکت کرتی ہے ایسٹ کے لوگوں کو یہ حرکت مشرق سے مغرب کی لگتی ہے ۔ مگر زمین کی دوسری حرکت جو سورج کے گرد ہے وہ بھی اسی سمت میں ہے۔ سورج کے گرد والی حرکت تو فضا کی حرکت ہے وہ زمین کی نہیں جیسے بس میں سیب۔ اس لہے یہ کہنا کہ زمین ساکن ہے درست بات ہے۔ کان کی کدھر سے پکڑنا ہے آپ کی مرضی۔ اب جو 24 گھنٹے میں اپنے محور کے گرد زمیں گھومتی ہے اس کا اثر ہر اس چیز پہ پڑتا ہے جو زمین کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہو۔ لہذا یہ کہنا بھی درست نہیں ۔ زمیں اپنے محور کے گرد نہیں گھومتی ۔ زمیں کی فضا سے باہر چاند کا مدار ہے یا فضا ہے۔ اس فضا کی اپنی رفتار ہے اور چاند اس فضا میں ساکن ہے سیب کی طرح اس سے باہر سورج کا مدار یا فضا۔ اور اس کی اپنی رفتار ہے ۔ سورج سیب کی طرح ساکن اور فضا میں تیر رہا ہے۔ یاد رکھیں ۔ تیرنا اور دوڑنا برابر نہیں۔
اسی لہے قرآن کہتا ہے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ کچھ بھی ساکن نہیں سب تیر رہے ہیں سیب کی طرح۔
1- آپکی گیند والی مثال میں ثقلی اسراعgravitational acceleration جو کہ 9.8 میٹر فی سیکنڈ فی سیکنڈ ہے بس کے اسراع سے بہت زیادہ ھے لہٰذا یہ مثال تقابلی نہیں ہے ۔
2- گاڑی کے اندر مکھی کی مثال isolated system پر فٹ آتی ھے وسیع فضاؤں میں ہزاروں فٹ بلندی پر آڑنے والے جہاز کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی ۔
3- جمود کے قانون law of inertia کے ضروری ہے متحرک اور ساکن یا قدرے کم متحرک دو اشیا کے درمیان جسمانی ربط ھو۔
برچسب:
نویسنده: آریا رضوانی