صحاح ستہ کے شیعہ راوی جنہوں نے ھماری صحاح ستہ کا 80٪ بوجھ اٹھایا ھوا ھے ،
محمد بن مسلم ابن شھاب الزھری ،،
شیخ عباس قمی اپنی کتاب تتمۃ المنتہی میں لکھتے ھیں ،،
واختلف کلمات علمائنا فی مدحہ و قدحہ و قد فصل صاحب الروضات فقال انہ کان فی بدء امرہ من جملۃ علماء اھل السنہ و ندمائے حزب الشیطان ، ثمہ علمہ و ادراکہ ادرکاہ و ارشداہ الحق المبین فصیراہ فی اواخر عمرہ من الراجعین الی الامام زین العابدین علیہ السلام وفی زمرۃ المستفیدین من برکات انفاسہ الشریفہ ثم ذکرہ شوھد قولہ ،،
ابن شھاب الزھری کی مدح و قدح میں ھمارے علماء کے مختلف اقوال ھیں ، صاحب روضات نے تفصیل کرتے ھوئے اپنی کتاب روضات میں لکھا ھے کہ وہ ابتدا میں تو سنی علماء میں سے تھا اور شیطان کی پارٹی کے ھم نشینوں میں سے تھا ، پھر اس کے علم اور فہم نے اسے کھلے ھوئے حق کی طرف راھنمائی کی اور زندگی کے آخری حصوں میں اسے ان لوگوں میں سے بنا دیا جو امام زین العابدین سے رجوع کرنے والے تھے اور آپ کی خدمت شریف سے فیض حاصل کرنے والے تھے،،
اصول کافی میں اس کی احادیث نو مواقع پر درج ھیں شیعہ اسماء الرجال کی کتاب " عین الغزال فی اسماء الرجال " میں ابن شہاب الزھری کے تعارف میں شیعی لکھا ھوا ھے ،،
ھمارے محدثین کتنی بھی احتیاط کریں مگر جو لوگ خود کو چھپانا چاھیں وہ مہارت بھی حاصل کر لیتے ھیں یہانتک کہ اللہ پاک مدینے کے منافقین کے بارے میں اپنے رسول ﷺ کو فرماتے ھیں کہ مردوا علی النفاق ، لاتعلمھم نحن نعلمھم ،، یہ نفاق میں ماھر ھو چکے ھیں ، آپ ان کو نہیں پہچانتے ھم ان کو جانتے ھیں ،، چنانچہ قاضی نور اللہ شوستری اپنی کتاب مجالس المومنین میں لکھتا ھے کہ ھم لوگ شروع کار آغاز میں سنی ، حنفی ،شافعی ، مالکی ،حنبلی بن کر اھل سنت کے استاذ اور ان کے شاگرد بنے رھے ، ان سے روایتیں لیتے تھے اور ان کو حدیثیں سناتے تھے اور تقیہ سے کام لیتے تھے
ابان بن تغلب بن رباح قاری کوفی
علامہ ذہبی ان کے حالات میں لکھتے ہیں :
“ ابان بن تغلب کوفہ کے رہنے والے تھے اور بڑے کٹر شیعہ ہیں لیکن صدوق ہیں۔ ہمیں ان کی سچائی سے غرض ہے ان کی بدعت کا بار ان کے سر ہے احمد بن حنبل ، ابو حاتم اور ابن معین نے انھیں موثق قرار دیا ہے۔ ابن عدی نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ بڑے غالی شیعہ تھے۔ ان سے امام مسلم او ابو داؤد و ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ نے حدیثیں روایت کی ہیں آپ کا انتقال سنہ۱۴۱ھ میں ہوا۔
ابراہیم بن یزید بن عمرو بن اسود بن عمرو نخعی کوفی
علامہ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔
ان کی حدیثیں صحیح بخاری ، مسلم دونوں میں موجود ہیں۔ ان کی پیدائش سنہ۵۰ھ اور انتقال سنہ۹۵ھ یا سنہ۹۶ھ میں حجاج کے مرنے کے چار مہینے کے بعد ہوا۔
احمد بن مفضل ابن کوفی حفری
ان سے ابوذرعہ و ابو حاتم نے روایت کی اور ان کی بیان کی ہوئی حدیث سے اپنے مسلک پر دلیل پیش کی ہے حالانکہ ابوزرعہ و ابو حاتم نے ان کی شیعیت کی صراحت بھی کی ہے۔ علامہ ذہبی نے ابوحاتم کا یہ فقرہ احمد بن مفضل کے متعلق نقل کیا ہے کہ احمد بن مفضل رؤساء شیعہ میں سے تھے اور صدوق تھے ان کی روایت کردہ حدیثیں سنن ابی داؤد ، سنن نسائی دونوں میں موجود ہیں۔
اسماعیل بن ابان
امام بخاری کے شیخ ہیں۔ بخاری و ترمذی دونوں نے ان کی حدیث سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے جیسا کہ علامہ ذہبی نے تحریر کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے یہ بھی ان کے متعلق لکھا ہے کہ یحی و احمد نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔ اور بخاری نے انھیں صدوق کہا ہے۔ امام بخاری نے متعدد جگہ صحیح بخاری میں بلاواسطہ ان کی حدیثیں ذکر کی ہیں۔
اسماعیل بن خلیفہ ملائی کوفی
ان کی کنیت ابو اسرائیل ہے اور اسی کے ساتھ مشہور بھی ہیں۔ علامہ ذہبی نے ان کا تذکرہ میزان الاعتدال میں ان الفاظ میں کیا ہے۔ کہ بڑے متعصب شیعہ اور ان لوگوں میں سے تھے جو عثمان کو کافر کہتے ہیں اور بھی بہت کچھ ان کے متعلق لکھا ہے لیکن ان سب کے باوجود ترمذی نے اور دیگر اصحابِ سنن نے ان سے روایت کی ہے۔ ابوحاتم نے ان کی حدیثوں کو حسن کہا ہے۔ ابوزرعہ نے کہا ہے کہ صدوق ہیں اگر چہ خیالات غالیانہ تھے امام احمد نے کہا ہے کہ ان کی حدیثیں درج کرنے کے قابل ہیں۔ ابن معین نے ثقہ کہا۔ فلاس نے کہا یہ جھوٹ بولنے والوں میں نہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ترمذی میں موجود ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔
اسماعیل ابن زکریا خلقانی کوفی
ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھا ہے کہ صدوق ہیں اور شیعہ ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جن سے صحاح ستہ میں حدیثیں لی گئی ہیں۔ ان کی حدیث بخاری اور مسلم میں موجود ہے۔ سنہ ۱۷۴ھ میں بغداد میں انتقال کیا۔
اسماعیل بن عباد بن عباس طالقانی
صاحب بن عباد کے نام مشہور ہیں ابو داؤد و ترمذی نے ان سے روایتیں لی ہیں۔ جیسا کہ امام ذہبی نے میزان میں صراحت کی ہے نیز یہ بھی لکھا ہے کہ بڑے با کمال ادیب اور شیعہ تھے۔ ان کی شیعیت میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا اور شیعیت ہی کی وجہ سے سلطنت بویہہہ کی وزارت عظمی پر فائز ہوئے۔ یہ پہلے وہ شخص ہیں جو صاحب کے لقب سے ملقب ہوئے اس لیے کہ یہ موید الدولہ بن بویہ کے جوانی کے زمانہ سے مصاحب رہے اور مؤید الدولہ ہی نے ان کا نام صاحب رکھا اور برابر اسی نام سے پکارے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ اسی نام سے مشہور ہوگئے اور ان کے بعد جو شخص وزارت کے درجہ پر آیا وہ بھی صاحب ہی کے نام سے پکارا گیا۔ یہ پہلے موید الدولہ کے وزیر رہے اس کے مرنے پر اس کے بھائی فخر الدولہ نے بھی انھیں وزارت عظمی پر برقرار رکھا۔ جب ان کا انتقال ہوا ( ۲۴ صفر سنہ۳۸۵ھ میں ۹۵ برس کی عمر میں) تو شہر رے کے دروازے بند ہوگئے اور تمام لوگ ان کے مکان پر آکر جنازہ کا انتظار کرنے لگے خود بادشاہ فخرالدولہ اور وزراء، و سروران فوج جنازہ میں ساتھ ساتھ تھے۔ یہ بڑے جلیل القدر عالم اور گرانقدر کتب و رسائل کے مصنف شخص تھے۔
اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی کریمہ مشہور مفسر
جو سدی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں
علامہ ذہبی نے ان کے حالات میں لکھا ہے کہ متہم بالتشیع ہیں اور حسین بن واقد مروزی سے اس کی بھی روایت کی ہے کہ انھوں نے ابوبکر و عمر کو سب و شتم کرتے سنا تھا مگر ان سب کے باوجود ثوری ابوبکر بن عباس و غیرہ نے ان سے حدیثیں لیں اور امام مسلم و ترمذی و ابوداؤد ، ابن ماجہ، نسائی صاحبانِ صحاح نے ان کی حدیثیں اپنے مسلک کی تائید میں درج کی ہیں۔ امام احمد نے انھیں ثقہ، ابن عدی نے صدوق کہا ہے۔ یحی بن سعید کا قول ہے کہ میں نے ہر ایک کو دیکھا کہ وہ سدی کو اچھا ہی کہتا ہے اور سبھی نے اس سے حدیثیں لی ہیں سنہ۱۲۷ھ میں انتقال کیا ہے۔
اسماعیل بن موسی فزاری کوفی
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں لکھا ہے کہ ابن عدی ان کے متعلق کہتے تھے کہ شیعیت میں بہت زیادہ غلو رکھنے کی وجہ سے لوگ انھیں ناپسند کرتے تھے اور عبدان بیان کرتے تھے کہ ہناد اور ابن شیبہ ہمارا اسماعیل کے پاس جانا پسند نہیں کرتے تھے اور کیا کرتے تم لوگ اس فاسق کے پاس جاکر کیا کرتے ہو جو بزرگوں کو سب وشتم کیا کرتاہے۔ ان سب کے باوجود ابن خزیمہ، ابو عرویہ اور بہت سے لوگوں نے ان سے حدیث کا استفادہ کیا اور یہ اس طبقہ کے شیخ تھے جیسے ابوداؤد و ترمذی وغیرہ۔ ان سب حضرات نے ان سے حدیث لی اور اپنے اپنے صحیح میں درج کی۔ ابوحاتم نے انھیں صدوق کہا ہے۔ نسائی نے کہا ہے کہ کوئی مضائقہ نہیں ان سے حدیث لینے میں۔ سنہ۲۴۵ھ میں انتقال کیا۔ بعض لوگ انھیں سدی کا نواسہ بتاتے ہیں۔
ت :-
تلید بن سلیمان کوفی
ابن معین نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ یہ عثمان کوسب وشتم کیا کرتے تھے۔ بعض عثمانیوں نے سن لیا۔ انھوں نے اسے تیر مارا جس سے ان کا پیر ٹوٹ گیا۔ ابوداؤد نے ان کے متعلق کہا کہ یہ رافضی ہیں۔ ابوبکر و عمر کو سب وشتم کیا کرتے تھے مگر ان سب کے باوجود احمد و ابن نمیر نے ان سے تحصیل حدیث کی۔ امام احمد نے ان کے متعلق کہا کہ تلید شیعہ ہیں مگر ان سے حدیث لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ صحیح ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ث :-
ثابت بن دینار
جو ابوحمزہ ثمالی کے نام سے مشہور ہیں ان کی شیعیت اظہر من الشمس ہے۔ ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ثوبر بن ابی فاختہ
ام ہانی بنت ابی طالب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ذہبی نے ان کے رافضی ہونے کی صراحت کی ہے۔ امام محمد باقر(ع) کے عقیدت مندوں میں تھے ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ج : -
جابر بن یزید جعفی کوفی
علامہ ذہبی نے ان کے حالات میں لکھا ہے کہ یہ علماء شیعہ میں سے تھے۔ نیز سفیان سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے جابر کو کہتے سنا۔ علم پیغمبر(ص) سے علی(ع) کی طرف منتقل ہوا اور علی(ع) سے حسن(ع) کی طرف۔ ایک امام سے دوسرے امام تک منتقل ہو کر امام جعفر صادق(ع) تک پہنچا یہ امام جعفر صادق(ع) کے زمانہ میں تھے اور آپ نے بکثرت حدیثیں حاصل کیں چنانچہ خود جابر کہا کرتے تھے کہ میرے پاس ستر ہزار حدیثیں امام محمد باقر(ع) کی روایت کردہ ہیں۔ جابر جب امام محمد باقر(ع) سے کوئی حدیث روایت کر کے بیان کرتے تھے تو کہتے مجھ سے وصی الانبیاء نے بیان کیا۔ علامہ ذہبی نے میزان میں زائدہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جابر رافضی ہیں۔ سب و شتم کیا کرتے ہیں، ان سے امام ابو داؤد وترمذی ، نسائی نے حدیثیں روایت کی ہیں۔ سفیان ثوری نے انھیں حدیث میں بہت محتاط کہا ہے۔ شیعہ نے صدوق قرار دیا ہے۔ وکیع نے ثقہ کہا ہے سنہ ۱۲۷ھ میں انتقال کیا۔
جریر بن عبدالحمید جنبی کوفی
علامہ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال کا تذکرہ کرتے ہوئے بڑی حمدو ثنا کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ جریر اہل رے کے عالم اور صدوق ہیں اور ان کے اقوال سے کتابوں میں استدلال کیا جاتا ہے اور ان کے ثقہ ہونے پر جملہ محدثین کا اجماع و اتفاق ہے۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں سنہ۱۷۸ھ میں انتقال کیا۔
جعفر بن زیاد احمر کوفی
امام ابوداؤد نے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ صدوق ہیں اور شیعہ ہیں۔ ابن عدی نے انھیں صالح اور شیعہ لکھا ہے۔ ابن معین نے ثقہ، امام احمد نے صالح الحدیث فرمایا ہے۔ صحیح ترمذی و سنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ ۱۶۷ھ میں انتقال کیا۔
جعفر بن سلیمان ضبعی بصری
علامہ ابن قتیبہ نے معارف صفحہ ۲۰۶ میں انھیں مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے ابن سعد نے ان کی شیعیت اور ثقہ ہونے کی تصریح کی ہے۔ ابن عدی ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ شیعہ ہیں ۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ان کوئی حرج نہیں اور ان کے حدیثیں قابل انکار نہیں اور میرے نزدیک اس قابل ہیں کہ ان کی حدیثیں قبول کی جائیں۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں انھیں راہد علمائے شیعہ میں سے لکھا ہے ان کی حدیثیں صحیح مسلم و نسائی میں موجود ہیں سنہ۱۷۹ھ میں انتقال کیا۔
جمیع بن عمیرہ بن ثعلبہ کوفی تیمی
میزان الاعتدلال میں ہے کہ ان کے متعلق ابو حاتم کا یہ فقرہ ہے کہ صالح الحدیث اور شرفا الشیعہ سے ہیں۔ جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ح :-
حارث بن حصیرہ کوفی
ابوحاتم رازی، ابو احمد زبیری، ابن عدی ، یحی بن معین ، امام نسائی وغیرہ نے ان کی شیعیت کی تصریح بھی کی ہے اور ان کے ثقہ ہونے کا بھی اقرار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے انھیں صدوق لکھا ہے۔ امام نسائی نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔
حارث بن عبداﷲ ہمدانی
صحابی و حواری امیرالمومنین(ع) ، ابن قتیبہ نے مشاہیر شیعہ میں پہلے ان کا ہی نام لکھا ہے۔ ذہبی نے لکھا ہے کہ یہ کبار علماء تابعین سے تھے اور ابن حبان انھیں بہت غالی شیعہ کہا کرتے تھے۔ جمہور اہلسنت انھیں اسی شیعیت کی وجہ سے بہت دشمن رکھتے تھے مگر باوجود اس کے ان کے علم و فضل اور ثقہ ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ سنن ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ وابو داؤد میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۶۵ھ میں انتقال کیا۔
حبیب بن ابی ثابت اسدی
کوفہ کو رہنے والے اور تابعی ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہییر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ ان سے جملہ اربابِ صحاح ستہ نے بلا تردد روایتیں لی ہیں۔ سنہ ۱۱۹ھ میں انتقال کیا۔
حسن بن حیَ
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں یہ اجلہ علماء میں سے ہیں اور ان میں شیعیت کی بدعت موجود تھی۔ نماز جمعہ میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ ظالم حکام پر خروج جائز جانتے تھے۔ عثمان پر ترس نہیں کھاتے تھے۔ ابن سعد نے طبقات جلد۶ میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ثقہ ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ہیں اور یہ شیعہ تھے۔ ابن قتیبہ نے بھی ان کی شیعیت کی تصریح کی ہے۔ صحیح مسلم اور دیگر سنن میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۱۰۰ ھ میں پیدا اور سنہ۱۹۹ھ میں انتقال کیا۔
حکم بن عتیبہ کوفی
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۱۱۵ھ میں انتقال کیا۔
حماد بن عیسیٰ
صاحب منتہی المقال و غیرہ نے انھیں علماء شیعہ میں سے لکھا ہے اور ہر ایک نے انھیں ثقہ و معتمد سمجھا ہے۔ و امام موسی کاظم(ع) کے اصحاب میں سے ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ترمذی اور دیگر سنن میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
حمران بن اعین
مشہور ترین صحابی امام محمد باقر(ع) و امام جعفر صادق(ع) ۔ سنن ابی داؤد و غیرہ میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
خ : -
خالد بن مخلد قطوانی کوفی
امام بخاری کے شیخ الحدیث ہیں۔ علامہ ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ۲۸۳ میں اور امام ابو داؤد نے انھیں شیعہ اور صدوق لکھا ہے۔ امام بخاری و مسلم دونوں نے ان کی حدیثیں اپنی صحیح میں درج کی ہیں اور بھی دیگر اصحاب سنن نے ان کی شیعیت سے واقف ہوتے ہوئے ان کی حدیثوں سے کام لیا ہے۔
ز : -
زبید بن حارث بن عبدالکریم کوفی
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ یہ ثقات تابعین مین سے ہیں اور ان میں تشیع تھا۔ اس کے بعد ذہبی نے بہت سے علماء و محدثین کے اقوال ان کے ثقہ ہونے کے متعلق نقل کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہیں۔ سنہ۱۲۴ھ میں انتقال کیا۔
زید بن الحباب کوفی تمیمی
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے اور علامہ ذہبی نے انھیں عابد ، ثقہ اور صدوق لکھا ہے اور ان کے ثقہ و صدوق ہونے کے متعلق دیگر بہت سے علماء کے اقوال نقل کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح مسلم میں موجود ہیں۔
س :-
سالم بن ابی الجعد اشجعی کوفی
ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ۲۰۳ میں ابن قتیبہ نے معارف صفحہ۱۵۶ علامہ شہرستانی نے ملل و نحل جلد۲ صفحہ۲۷ میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے علامہ ذہبی نے انھیں ثقات تابعین میں لکھا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم دونوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
سالم بن ابی حفصہ عجلی کوفی
علامہ شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اور علامہ ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ ۲۳۴ میں ان کی شدت تشیع کی کیفیت ذکر کی ہے۔ ان کی حدیثیں جامع ترمذی میں موجود ہیں۔ سنہ۱۳۷ھ میں انتقال کیا۔
سعد بن طریف الاسکاف حنظلی کوفی
علامہ ذہبی نے علماء محدثین کے اقوال ان کے تشیع کے متعلق درج کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ترمذی میں موجود ہیں۔
سعید بن اشوع
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ کوفہ کے قاضی تھے اور مشہور صدوق ہیں۔ امام نسائی نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان میں کوئی خرابی نہ تھی۔ جو زجانی نے کہا ہے کہ یہ بڑے غالی اور شیعیت میں حد سے بڑے ہوئے تھے۔ صحیح بخاری و مسلم دونوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
سعید بن خیثم
یحی بن معین سے ان کے متعلق پوچھا گیا کہ سعید بن خیثم شیعہ ہیں آپ ان کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ انھوں نے کہا شیعہ ہوں گے مگر ہیں ثقہ جامع ترمذی و سنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
سلمہ بن الفضل الابرش
رے کے قاضی تھے۔ ان کی شیعیت کی علماء نے صراحت کی ہے مگر ارباب صحاح نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔ چنانچہ جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
سلمہ بن کمیل بن حصین حضرمی
علامہ قتیبہ نے معارف صفحہ ۲۰۶ میں، علامہ شہرستانی نے ملل و نحل جلد۲ صفحہ۲۷ میں ان کو مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے۔ جملہ ارباب صحاح ستہ نے ان کی حدیثوں سے کام لیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں سنہ ۱۲۱ھ میں انتقال کیا۔
سلیمان بن صرد خزاعی کوفی
شیعیان عراق کے بزرگ ترینِ فرد اور مرجع مومنین بزرگ تھے۔ انتقام خون حسین(ع) لینے والوں کے راس و رئیس اور قائد بھی تھے۔ جملہ ارباب سیر و تاریخ نے ان کے علم و فضل زہد و ورع عبادت کا فراخ دلی سے تذکرہ کیا ہے جنگِ صفین میں امیرالمومنین(ع) کے ہمراہ تھے۔ دشمنان اہل بیت(ع) کو گمراہ سمجھتے تھے ان کی حدیثیں صحیح مسلم و صحیح بخاری دونوں میں موجود ہیں۔
سلیمان بن طرخان تیمی بصری
ابنِ قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے ان کی حدیثوں سے اربابِ صحاح نے بھی کام جلیا ہے اور دیگر محدثین بے بھی صحیح بخاری و مسلم دوںوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ ۱۴۳ھ میں انتقال کیا۔
سلیمان بن قرم بن معاذضبی کوفی
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق ابن حبان کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ بڑے غالی رافضی تھے اور ابن عدی نے ان کے متعلق یہ کہا ہے کہ ان کی حدیثیں عمدہ ہیں۔ صحیح مسلم، سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
سلیمان بن مہران کاہلی کوفی مشہور بہ اعمش
یہ بزرگان شیعہ سے ایک جلیل القدر فرد اور کبار محدثین میں نامور بزرگ ہیں بہت سے محققین علماء اہل سنت مثلا ابن قتیبہ نے اپنی معارف میں اور علامہ شہرستانی نے اپنی ملل ونحل میں اور دیگر حضرات نے ان کی شیعہ ہونے کی صراحت کی ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں جوزجانی کا یہ فقرہ نقل کیا ہے کہ باشندگان کوفہ میں سے ایک جماعت ایسی تھی کہ لوگ ان کے عقائد و مذہب کو ناپسند سمجھتے تھے۔ مگر وہی حضرات محدثین کوفہ کے راس و رئیس تھے مثلا ابو اسحاق منصور زبید یامی اور اعمش اور انھیں جیسے دیگر حضرات کو ان کے سچے ہونے کی وجہ سے ان کی حدیثوں کو لوگوں نے سر آنکھوں پر رکھا جو زجانی کا یہ فقرہ جس قدر رکیک اور ان کے تعصب کا مظہر ہے پوشیدہ نہیں۔ ناصبی لوگوں نے ان بزرگوں کے مذہب و عقائد کو جو پسند نہیں کیا تو محض اس جرم کی وجہ سے کہ یہ حضرات اہل بیت(ع) کی محبت دل میں رکھ کر ان کے دامن سے متمسک ہوکر اجر رسالت پیغمبر(ص) ادا کرتے تھے۔ ناصبی افراد نے ان کی حدیثوں کو سر آنکھوں پر جو رکھا تو محض اس وجہ سے نہیں کہ یہ حضرات سچے تھے بلکہ اس لیے کہ بغیر ان کی طرف رجوع کیے ہوئے کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اگر ایسے حضرات کی حدیثیں یہ ناصبی لوگ ٹھکرا دیتے تو پیغمبر(ص) کی ساری حدیثیں ہوا ہوجاتیں۔ سنن و آثار پیغمبر(ص) کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ جیسا کہ خود علامہ ذہبی نے ابان بن تغلب کے تذکرہ کے سلسلہ میں اعتراف کیا ہے۔
اعمش کے چند عجیب و غریب نوادر ہیں جو ان کی جلالت و قدر کا ظاہر کرتے ہیں چنانچہ علامہ ابن خلکان ان کے حالات میں یہ واقعہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے ان کے پاس اپنا قاصد بھیجا کہ عثمان کے فضائل اور علی(ع) کی برائیاں مجھے لکھ بھیجو۔ اعمش نے ہشام کا خط لے کر بکری کے منہ میں دے دیا اور وہ اس خط کو چبا گئی اور قاصد سے کہا جا کر ہشام سے کہہ دینا کہ تمہارے خط کا یہی جواب ہے۔ قاصد نے کہا کہ ہشام نے قسم کھائی تھی کہ اگر میں تمہارا جواب لے کر نہ گیا تو مجھے قتل کر ڈالے گا۔ قاصد نے اعمش کے اعزہ و احباب سے بھی سفارش کرائی۔ جب سب نے اصرار کیا تو انھوں نے جواب میں لکھا۔
“ اگر دنیا بھر کے لوگوں کے فضائل عثمان کو حاصل ہوجائیں اور دنیا بھر کے لوگوں کی برائیاں علی(ع) میں اکٹھا ہوجائیں تو تمہیں کیا تم اپنے آپ کو دیکھا کرو۔”
علامہ بن عبدالبر نے ان کا ایک واقعہ یہ نقل کیا ہے کہ فضل بن موسی بیان کرتے تھے کہ امام ابو حنیفہ کے ہمراہ اعمش کی عیادت کو گیا ابو حنیفہ نے کہا اے ابو محمد (اعمش) اگر تمہارے بارِ خاطر نہ ہوتا تو میں جتنی بار تمہاری عیادت کو آتا ہوں اس سے زیادہ آتا۔ اعمش نے کہا کہ خدا کی قسم جب تم اپنے گھر میں ہوتے ہو تو بھی میرے لیے بارگراں ہوتے ہو جب میرے پاس ہوگے تو میرا کیا حال ہوگا؟
ایک اور ان کا واقعہ شریک بن عبداﷲ قاضی کی زبانی ہے۔ شریک کہتے ہیں کہ میں اعمش کے مرض الموت میں ان کے پاس حاضر تھا کہ اتنے میں ابن شبرمہ اور ابن ابی لیلیٰ اور امام ابوحنیفہ ان کی عیادت کو آئے۔ لوگوں نے ان کی مزاج پرسی کی، انھوں نے انتہائی کمزوری و نقاہت کا ذکر کیا۔ اپنی خطاؤں پر اپنی ہراسانی ظاہر کی اور کچھ آب دیدہ سے ہوگئے۔ امام ابو حنیفہ مڑے اور انھوں نے فرمایا : اے ابو محمد! خدا سے ڈریے اور اپنے اوپر ترس کھائیے۔ آپ حضرت علی(ع) کے متعلق ایسی حدیثیں بیان کرتے تھے اگر آپ ان سے توبہ کرلیتے تو آپ کے لیے اچھا ہوتا۔ اعمش نے کہا۔ تم میرے ایسے شخص کے لیے ایسی بات کہتے ہو اور خوب سخت و سست سنایا۔ مختصر یہ کہ اعمش بڑے ثقہ و معتمد عالم و فاضل بزرگ تھے۔ ان کے صدق و عدالت تقوی و پرہیزگاری پر سب کا اتفاق ہے۔ جملہ ارباب صحاح و غیرہ نے ان کی روایت کردہ حدیثوں سے کام لیا ہے۔
صحیح بخاری ، صحیح مسلم سب ہی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۶۱ ھ میں پیدا ہوئے۔ سنہ۱۴۸ھ میں انتقال کیا۔
ش :-
قاضی شریک بن عبداﷲ بن سنان بن انس نخعی کوفی
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے۔ میزان الاعتدال علامہ ذہبی میں بہ ذیل حالاتِ شریک مذکور ہے۔ عبداﷲ بن ادریس خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ شریک شیعہ ہیں۔ اسی میزان میں یہ بھی ہے کہ ابو داؤد درہاوی روایت کرتے ہیں کہ ہم نے شریک کو کہتے سنا کہ :
“ علی خير البشر فمن ابی فقد کفر”
“ علی(ع) تمام خلائق میں سب سے بہتر ہیں جس نے اس کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔”
مطلب یہ ہے کہ حضرت علی(ع) بعد رسول اﷲ(ص) سب سے بہتر ہیں۔ شریک منجملہ ان حضرات کے ہیں جنھوں نے امیرالمومنین(ع) کے نص خلافت کی حدیثیں روایت کی ہیں چنانچہ میزان الاعتدال میں ایک مرفوع حدیث ابوہریرہ سے ہے:۔
“لکل نبی وصی و وارث وان عليا وصيی و وارثی”
“ ارشاد فرمایا پیغمبر نے کہ ہر نبی کا وصی و وارث ہوا کرتا ہے اور علی میرے وصی و وارث ہیں۔”
یہ شریک حضرت علی کے فضائل و مناقب کی نشر و اشاعت میں بڑے مستعد و سرگرم اور آپ کے فضائل و مناقب بیان کر کے بنوامیہ کو خوب زچ کیا کرتے تھے۔
مورخ ابن خلکان نے اپنی کتاب وفیات الاعیان میں بسلسلہ حالاتِ شریک کتاب درة الغواص سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ:
“ ایک اموی شخص شریک کی صحبت میں اٹھا بیٹھا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ شریک نے حضرت علی کے فضائل بیان کیے۔ اس پر اموی نے کہا : “ نعم الرجل علی” اچھے شخص تھے علی ” اس پر شریک کو غصہ آگیا اور بگڑ کر کہنے لگے کہ کیا علی کے لیے بس یہی کہہ دینا کافی ہے؟ نعم الرجل” اچھے شخص تھے۔” اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کہنے کو؟۔”
شریک کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کسی کو بھی اس میں ذرہ برابر شک و شبہ نہیں رہے گا کہ یہ دوستدارانِ اہلبیت میں سے تھے اور علماء اہلبیت سے بکثرت حدیثیں انھوں نے روایت کی ہیں۔ عبداﷲ بن مبارک ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ سفیان سے زیادہ حدیث کے عالم ہیں اور دشمنانِ علی کے سخت ترین دشمن تھے اور انھیں بہت برا کہا کرتے۔ ایک مرتبہ عبدالسلام بن حزب نے شریک سے پوچھا کہ اپنے ایک بھائی کی عیادت کو چلتے ہو؟
پوچھا کون؟ عبدالسلام نے کہا مالک بن مغول۔ شریک نے کہا جو شخص علی و عمار کو عیب لگائے وہ میرا بھائی نہیں۔
ایک مرتبہ شریک کے سامنے معاویہ کا تذکرہ ہوا۔ لوگوں نے کہا معاویہ بڑے حلیم تھے۔ شریک نے کہا۔ جو شخص حق سے اعراض کرے اور علی سے جنگ کرے وہ حلیم ہرگز نہیں۔ انھیں شریک نے ہی یہ حدیث پیغمبر روایت کی ہے:
“ اذا رايتم معاويه علی منبر فاقتلوه۔”
“ جب تم میرے منبر پر معاویہ کو دیکھنا قتل کر ڈالنا”
مختصر یہ کہ ان کا شیعہ ہونا اظہر من الشمس ہے مگر باوجود اس کے علامہ ذہبی نے انھیں حافظ و صدوق اور یکے از ائمہ کہا ہے اور ابن معین کا ان کے متعلق لکھا ہے کہ یہ منجملہ خزینہ داران علم تھے۔ ان سے اسحاق ارزق نے نو ہزار حدیثیں حاصل کیں۔ امام مسلم اور دیگر ارباب صحاح نے بھی ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے اور اپنے صحاح نے بھی ان کی روایات کو لیا ہے ۔
منقول ۔
در این مطلب اطلاعات، جزئیات و نکات مرتبط با سنی راویان بررسی شده است.
جزئیات مهم و نکات قابل توجه درباره شیعہ در متن مقاله بررسی شده است.
جدیدترین اطلاعات و تغییرات مربوط به حدیثیں در این گزارش ارائه شده است.
برچسب:
نویسنده: آریا رضوانی