بسم تعالی
درس نمبر ۲
(مولانا سید رمیز الحسن موسوی)
*بسترِ مرگ پر شیطان کی موجودگی*
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"کوئی انسان ایسا نہیں جس کی موت کے وقت شیطان اپنے نمائندوں میں سے کسی ایک کو اس کے پاس نہ بھیجے۔ وہ اسے وسوسوں میں مبتلا کرتا، اس کے دین میں شک پیدا کرتا اور اسے کفر کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وسوسہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اس کی روح جسم سے جدا نہ ہوجائے۔
لیکن اگر محتضر مؤمن ہو تو شیطان اس پر غالب نہیں آسکتا اور نہ ہی اس کا ایمان چھین سکتا ہے۔ لہٰذا جب بھی تم کسی محتضر کے پاس جاؤ تو اسے شہادتین کی تلقین کرو تاکہ شیطان اس پر قابو نہ پاسکے۔"
شیطان نے مہلت کیوں مانگی؟*
جب شیطان نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو وہ اللہ کی رحمت سے دھتکار دیا گیا۔ اس وقت اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک مہلت طلب کی تاکہ انسانوں کو گمراہ کرسکے۔
«قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ»
"اے میرے پروردگار! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔"(سورہ ص 79)
اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مقررہ وقت تک مہلت عطا فرمائی:
«إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ»
"ایک مقررہ وقت کے دن تک۔"(سورہ ص 81)
شیطان نے قسم کھائی کہ وہ اللہ کے خالص بندوں کے علاوہ تمام انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا:
«رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ»
"اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں بھی زمین میں ان کے لیے گناہوں کو خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جو مخلص ہیں۔"(سورہ حجر 39-40)
لہٰذا یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیطان انسان کو آخری لمحات تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی مکاری اور وسوسوں سے باز نہیں آتا۔
شیطان کی آخری کوششوں کے کون کون سے حربے ہیں؟*
1۔ شیطان کا کفر و شرک کی دعوت دینا
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ جب ہمارے کسی شیعہ کی موت کا وقت آتا ہے تو شیطان اس کے دائیں اور بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے ایمان سے گمراہ کرکے کفر کی طرف لے جائے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس سے محفوظ رکھتا ہے۔
2۔ شبہات اور شکوک پیدا کرنا
شیطان آخری وقت میں اپنے کارندوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ انسان کے دل میں دینی عقائد کے بارے میں شک و شبہات پیدا کریں۔
3۔ امامت و ولایت سے دور کرنا
ولایت اور امامت سے دوری شیطان کا ایک بڑا جال ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ مؤمن کو اہلِ بیتؑ سے جدا کردے اور اسے ان کی محبت و ولایت سے دور کردے۔
4۔ کمزوریوں اور دنیوی وابستگیوں کا غلط استعمال کرنا
شیطان انسان کی دنیوی وابستگیوں اور کمزوریوں سےفائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
روایت میں بیان ہوا ہے کہ موت کے وقت انسان کو شدید پیاس لگ سکتی ہے۔ شیطان ٹھنڈے پانی کا پیالہ لے کر آتا ہے اور پانی دینے کے بدلے اللہ تعالیٰ یا رسولؐ کا انکار کرنے کی شرط رکھتا ہے۔ اگر انسان اس کے بہکاوے میں نہ آئے تو وہ سعادت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔
5۔ برے اخلاق و صفات کا سبب بننا
حسد، تکبر، دنیا سے شدید محبت اور والدین کی نافرمانی، یعنی عاقِ والدین، جیسے برے اخلاق انسان کی سوء عاقبت اور برے انجام کا سبب بن سکتے ہیں۔
شیطان کے وسوسوں سے بچاؤ کے طریقے*
1۔ ایمان کو مضبوط رکھنا
انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں اپنے ایمان کو اتنا مضبوط کرے کہ آخری وقت میں شیطان اسے ڈگمگا نہ سکے۔
2۔ محتضر کو تلقین کرنا
محتضر کے پاس شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا انتہائی مؤثر قرار دیا گیا ہے۔
3۔ نماز کو قائم رکھنا
جو شخص اپنی نمازیں وقت اور شرائط کے مطابق ادا کرتا ہے، موت کے وقت ملک الموتؑ شیطان کو اس سے دور بھگا دیتے ہیں۔
4۔ محتضر کو مصلّٰی پر منتقل کرنا
اگر ممکن ہو تو محتضر کو گھر میں اس جگہ منتقل کیا جائے جہاں وہ شخص زیادہ نماز پڑھا کرتا تھا۔
5۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا
محتضر کے قریب سورۂ یٰسین اور سورۂ صافات کی تلاوت کرنا بھی بیان کیا گیا ہے۔
6۔ دعائے «رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا» پڑھنا
ہر واجب نماز کے بعد اس دعا کی مدد انسان کے ایمان کو ثابت قدم رکھنے کا ذریعہ بیان کی گئی ہے۔
7۔ دعائے عدیلہ پڑھنا
دعائے عدیلہ پڑھنا اور اپنے عقائد کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا آخری وقت میں شیطان کے شر سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
8۔ اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت پر قائم رہنا
اہلِ بیتؑ کی محبت اور ولایت دنیا، برزخ اور موت کے وقت انسان کے کام آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث بنتی ہے۔
*خلاصہ درس*
موت انسان کی زندگی کا انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ اس وقت شیطان انسان کو وسوسوں، شکوک اور مختلف ترغیبات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی میں ایمان کو مضبوط کرے، نماز کی پابندی کرے، قرآن سے وابستہ رہے، اپنے اخلاق درست کرے اور اہلِ بیتؑ کی محبت و ولایت کو مضبوطی سے تھامے۔
محتضر کے وقت اسے شہادتین اور ائمہؑ کے ناموں کی تلقین کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور دعاؤں کے ذریعے اس کے ایمان کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرنا اسلامی تعلیمات میں اہم امور کے طور پر بیان ہوا ہے۔
*چند وضاحتیں*
مُحتَضَر : وہ شخص ہے جو حالتِ نزع میں ہو اور جس کی روح جسم سے جدا ہونے والی ہو۔
دعائے رَضِیتُ بِاللّٰهِ رَبًّا: مفاتیح الجنان میں یہ دعا تعقیباتِ نماز کے ضمن میں آئی ہے
دعائے عدیلہ: مفاتیح الجنان میں موجود ہے، اور اس کا تعلق خاص طور پر حالتِ احتضار اور موت کے وقت ایمان کی حفاظت سے بیان کیا گیا ہے۔
برچسب:
نویسنده: آریا رضوانی