خرید بک لینک

امام حسن علیہ السلام کی کثیر تعداد میں شادیوں اور طلاق کا شبہ اور اس کا عقلی اور نقلی جواب

اصلی بحث میں وارد ہونے سے پہلے بطور مقدمۃً چند چیزوں کا بیان ضروری ہے۔

امام حسن ع کی طلاق

ایک مسلمان ایک وقت میں صرف چار بیویاں رکھ سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں رکھ سکتا،(البتہ یہ شرط نبی کے ساتھ خاص نہیں ہے۔)

ہاں اگر ان میں سے کسی ایک کی وفات ہو جائے یا طلاق ہو جائے تو پھر اور شادی کر سکتا ہے۔

جیساکہ ہم سنتے ہیں مثلا کسی صحابی کی 10 سے 15 بیویاں تھیں تو وہ اسی حساب سے ہیں کہ ایک وقت میں 10 یا 15 نہیں تھیں بلکہ مختلف اوقات میں تھیں۔

اسلامی شریعت میں ایک وقت میں چار بیویوں کے علاوہ لونڈیاں (کنیز / اُمِّ وَلَدٍ) رکھنے کی گنجائش تھی، اور اس پر کوئی عددی پابندی نہیں تھی۔ یہ ایک علیحدہ اور اہم شرعی حکم تھا۔

تفصیلی وضاحت

بیویاں (منکوحہ): ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار کی عددی حد مقرر ہے (سورۃ النساء: ۳)۔

لونڈیاں (مملوکہ): ان کی تعداد پر کوئی شرعی حد نہیں ہے۔ ایک شخص جتنی بھی مالکیت میں رکھ سکتا تھا، رکھ سکتا تھا۔

شرعی حیثیت:

قرآن نے لونڈیوں کے ساتھ تعلق کو جائز قرار دیا ہے (سورۃ المؤمنون: ۵-۶ اور سورۃ المعارج: ۲۹-۳۰)۔

انہیں "ما ملکت ایمانکم" (دائیں ہاتھ کی ملکیت) کہا گیا ہے۔

اگر لونڈی اپنے آقا سے حاملہ ہو جائے تو وہ "اُمِّ وَلَدٍ" کہلاتی ہے، جسے بیچا نہیں جا سکتا اور آقا کی وفات پر خود بخود آزاد ہو جاتی ہے۔

صحابہ کرام کا طرز عمل:

بہت سے صحابہ کرام کے پاس متعدد لونڈیاں تھیں، مثلاً حضرت عبدالرحمن بن عوف اور دیگر صحابہ۔

یہ اس دور کا ایک معروف معاشرتی رواج تھا، خاص طور پر جنگی قیدیوں اور غلاموں کی صورت میں۔

عدالت اور انصاف کی شرط:

اگرچہ تعداد کی کوئی حد نہیں، لیکن ان کے ساتھ عدل و انصاف اور حسن سلوک کی تاکید کی گئی (سورۃ النساء: ۳۶)۔

امام حسن علیہ السلام کی زیادہ شادیوں اور طلاق کے شبہ کو پہلے عقلی دلائل سے اس کے بعد نقلی دلائل سے ثابت کریں گے۔ اس کے بعد یہ بیان کریں گے کہ اس شبہ نے کب اور کہاں سے جنم لیا اور اس کے اسباب کیا تھے۔

عقلی دلائل:

1. عصمت کے منافی: ہم چودہ معصومین علیہم السلام کو معصوم مانتے ہیں لہذا عقلی طور پر ایک امامِ معصوم سے اس طرح کا فعل صادر ہونا بہت بعید ہے بلکہ ناممکن ہے۔

2. طلاق شرعاً مکروہ ہے: جب کوئی شخص چار سے زیادہ آزاد عورتیں نہیں رکھ سکتا (سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے)، تو زیادہ شادی کا لازمی نتیجہ طلاق ہے۔ اور طلاق کی کراہت پر متعدد احادیث موجود ہیں۔ جب طلاق مکروہ ہے تو امام سے بار بار طلاق کا صادر ہونا کیسے ممکن ہے؟ امام تو محافظ شریعت ہوتا ہے وہ کیسے یہ کام کر سکتا ہے؟کیا امام حسن اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے واقف نہیں تھے؟

3. امام کے اخلاقی مقام سے منافات: امام ولی خدا اور اولو الامر ہوتا ہے امام کو امت میں اعلیٰ ترین اخلاق، عفت اور رحمت کا نمونہ ہونا چاہیے۔ بار بار طلاق دینا طلاق یافتہ عورتوں کیلئے باعث اذیت ہے، جو خود امام کی بھی شان کے خلاف ہے۔

4. امام کی عظیم ذمہ داریاں: امام کی ذمہ داریاں (عبادت، معاشرتی اصلاح، لوگوں کی حاجات پوری کرنا، نشر معارف، اور دشمنوں سے دفاع) اتنے وسیع ہیں کہ وہ سینکڑوں شادیوں کے لیے وقت نہیں رکھتے۔

5. دشمن کا خاموش ہونا: معاویہ اور عمرو بن عاص جیسے حریفوں نے کسی مناظرے میں امام پر کثرتِ شادی کا الزام نہیں لگایا۔ اگر یہ سچ ہوتا تو یہ ان کے لیے سب سے بڑا حربہ ہوتا۔ بنو امیہ علی اور اولاد علی کے سخت دشمن تھے اور وہ علی یا آل علی کو نیچا دکھانے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے جبکہ معاویہ یا عمرو بن العاص کے امام حسن کے ساتھ کئی مناظروں کا بھی ذکر ہے اگر امام کی زیادہ شادیاں ہوتیں تو کسی ایک مناظرے میں معاویہ یا عمرو بن العاص طعنہ مارتے یا اعتراض کرتے یا جس طرح معاویہ کی امام علی سے دشمنی تھی اور اس نے ممبروں سے علی علیہ السلام پر سب و شتم کروایا تو وہ بھی کسی محفل میں زیادہ شادیوں کا اعتراض اٹھاتے؟ جبکہ بنو امیہ نے کہیں بھی زیادہ شادیوں کا تذکرہ نہیں کیا۔

6. والد کا فرض: اگر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے منبر پہ امام حسن علیہ السلام سے شادی کرنے سے لوگوں کو منع کیا تو امام حسن بطورِ معصوم، اپنے والد اور امامِ مفترض الطاعہ(جس کی اطاعت واجب ہے) کی نافرمانی نہیں کر سکتے۔

7. جنازے کے خرافات: بعض روایات کہ امام کے جنازے پر ۳۰۰ عورتیں ننگے سر اور پاؤں کے ساتھ نکلیں، یہ عقل، شرع اور حیاء تینوں کے خلاف ہے اور بالکل جعلی ہے۔

8. شہوانیت کا الزام: اگر کوئی شخص ۳۰۰ شادیاں کرے تو اسے شہوانی ہی کہا جائے گا اور امام معصوم اس سے پاک ہے۔

نقلی دلائل

یہاں ان روایات کی جان پڑتال کی جائے گی جن میں زیادہ شادیوں کا ذکر ہے، آیا وہ روایات صحیح ہیں یا ضعیف؟

امام حسن علیہ السلام کی شادیوں کی حوالے سے شیعہ کتابوں میں صرف تین حدیثیں ذکر ہوئی ہیں اور یہ تینوں روایات، روای اور متن کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔

شیخ کلینی (رح) نے کتاب الکافی میں دو روایات نقل کی ہیں:

روایت نمبر 1 (الکافی)

متنِ عربی

حمید بن زیاد، عن الحسن بن محمد بن سماعة، عن محمد بن زياد بن عيسى، عن عبد الله بن سنان، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن عليا قال وهو على المنبر: لا تزوجوا الحسن فإنه رجل مطلاق، فقام رجل من همدان فقال: بلى والله لنزوجنه وهو ابن رسول الله صلى الله عليه وآله وابن أمير المؤمنين عليه السلام فإن شاء أمسك وإن شاء طلق.

اردو ترجمہ:

حمید بن زیاد، حسن بن محمد بن سماعہ، محمد بن زیاد بن عیسیٰ، عبداللہ بن سنان، اور امام صادق علیہ السلام کی سند سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: علی علیہ السلام منبر پر کھڑے تھے اور فرما رہے تھے: 'حسن سے شادی نہ کرو کیونکہ وہ بہت طلاق دینے والا ہے۔' ایک ہمدانی قبیلے کا شخص کھڑا ہوا اور بولا: 'نہیں، اللہ کی قسم! ہم انہیں بیٹی دیں گے کیونکہ وہ رسول اللہ کے بیٹے اور امیرالمؤمنین کے بیٹے ہیں چاہیں تو رکھیں، چاہیں تو طلاق دے دیں۔

سند کا نقد

محمد بن زیاد بن عیسیٰ اگر یہ روای ابن ابی عمیر ہے(روای کے نام میں اختلاف ہے) تو سند صحیح ہے، ورنہ یہ کسی اور شخصیت (بیاعِ سابری) ہے جو ثقہ یعنی معتبر یا authentic روای نہیں ہے

آیت اللہ خوئی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب معجم الرجال میں انہیں ضعیف قرار دیا ہے اس اعتبار سے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہے۔

متن کا جواب:

علامہ مجلسی نے کہا کہ امیرالمؤمنین ع کا مقصد لوگوں کا امتحان لینا تھا اور ان کے ایمان کی جانچ کرنا تھا، نہ کہ اپنے معصوم بیٹے پر اعتراض کرنا۔

روایت نمبر 2 (الکافی)

متنِ عربی

عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن محمد بن إسماعيل بن بزيع، عن جعفر بن بشير، عن يحيى بن أبي العلاء، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن الحسن بن علي عليهما السلام طلق خمسين امرأة فقام علي عليه السلام بالكوفة فقال: يا معاشر أهل الكوفة لا تنكحوا الحسن فإنه رجل مطلاق فقام إليه رجل فقال: بلى والله لننكحنه فإنه ابن رسول الله صلى الله عليه وآله وابن فاطمة عليها السلام فإن أعجبته أمسك وإن كره طلق.

اردو ترجمہ

ہمارے چند اصحاب، احمد بن محمد، محمد بن اسماعیل بن بزیع، جعفر بن بشیر، یحییٰ بن ابی العلاء، اور امام صادق علیہ السلام کی سند سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "حسن بن علی علیہما السلام نے پچاس عورتوں کو طلاق دی۔ چنانچہ علی علیہ السلام کوفہ میں کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: 'اے اہلِ کوفہ! حسن سے شادی نہ کرو کیونکہ وہ بہت طلاق دینے والا ہے۔' ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: 'نہیں، اللہ کی قسم! ہم ضرور انہیں بیٹی دیں گے کیونکہ وہ رسول اللہ کے بیٹے اور فاطمہ کے بیٹے ہیں اگر پسند آئے تو رکھیں، ورنہ طلاق دے دیں۔

سند کا نقد

یحییٰ بن ابی العلاء مجهول روای ہے اور کسی نے اسکی توثیق نہیں کی، مطلب کسی نے اسے معتبر روای نہیں سمجھا

علامہ مجلسی نے اس روایت کو مجهول قرار دیا۔

آیت اللہ خوئی نے کہا: یحییٰ بن ابی العلاء مجہول ہے۔

مجہول اس راوی کو کہتے ہیں جس کی اہلیت، عدالت، ضبط (یادداشت کی مضبوطی) اور ثقاہت کے بارے میں کسی بھی عالمِ رجال نے کوئی توثیق نہ کی ہو۔ لہذا اس کی روایت ضعیف ہوتی ہے اور قابل قبول نہیں ہوتی۔

یہاں غور کریں کہ امام علی ع لوگوں کو منع کر رہے ہیں تو آگے سے ایک شخص جسارت بھی کر رہا ہے کہ نہیں ہم ایسا کریں گے لہذا خود متن میں بھی اشکال پیدا ہو جاتا ہے۔

روایت نمبر 3 (محاسنِ برقی)

متنِ عربی:

أحمد بن أبي عبد الله البرقي في (المحاسن) عن ابن محبوب، عن عبد الله بن سنان، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال: أتى رجل أمير المؤمنين (عليه السلام) فقال له: جئتك مستشيرا إن الحسن والحسين وعبد الله بن جعفر خطبوا إلي، فقال أمير المؤمنين (عليه السلام): المستشار مؤتمن، أما الحسن، فإنه مطلاق للنساء، ولكن زوجها الحسين فانه خير لابنتك.

اردو ترجمہ

احمد بن ابی عبداللہ برقی نے المحاسن میں ابن محبوب، عبداللہ بن سنان اور امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ایک شخص امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا: "میں آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر نے میری بیٹی کا رشتہ مانگا ہے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے۔ رہے حسن تو وہ عورتوں کو بہت طلاق دینے والا ہے، لیکن اپنی بیٹی کی شادی حسین سے کر دو کیونکہ وہ تمہاری بیٹی کے لیے بہتر ہے۔

سند کا نقد

یہ روایت سنداً تو صحیح ہے (ابن محبوب اور عبداللہ بن سنان ثقہ ہیں)۔

لیکن متن کو قبول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ:

1. امام علی کو پتا ہی نہیں ہے اور ان کے بیٹے رشتہ مانگ رہے ہیں ایسا ہونا بہت ہی کم ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنے پدر بزرگوار سے ضرور مشورہ کرتے۔

2. یہ امام حسن علیہ السلام کے مقامِ عصمت کے خلاف ہے جو قطعی دلیل سے ثابت ہے اس میں امام حسن کو شہوانی بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

3. یہ قرآن اور ان فضائل والی روایات کے منافی ہے جو امام حسن کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں۔

4۔ جو بھی حدیث قرآن کے مخالف ہو اس کو دیوار پر مار دینے کا حکم ہے۔

ہمارے عقیدے میں امام حسن علیہ السلام اولو الامر ولیِ خدا ہیں کیونکہ ولی خدا لوگوں کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے لہذا ولی خدا اور اولو الامر سے اس طرح کا فعل انجام پانا بعید ہے لہذا سند روایت اگر صحیح بھی ہو تو متن روایت قرآن و سنت کے منافی ہے۔

اہلِ سنت کی روایات اور ان کا نقد

روایت نمبر 1 (ابن عساکر، از مدائنی)

متنِ عربی (ابن عساکر، کتاب تاریخ دمشق):

وأنبأنا علي بن محمد يعني المدائني عن أبي جعدبة عن ابن أبي مليكة قال: تزوج الحسن بن علي خولة ابنة منظور فبات ليلة على سطح أجم فشدت خمارها برجله والطرف الآخر بخلخالها، فقام من الليل فقال: ما هذا؟ قالت: خفت أن تقوم من الليل بوسنك فتسقط فأكون أشأم سخلة على العرب؟! فأحبهما فأقام عندها سبعة أيام، فقال ابن عمر: لم نر أبا محمد منذ أيام فانطلقوا بنا إليه، فأتوه فقالت له خولة: إحتبسهم حتى نهيئ لهم غداءا [قال: نعم] قال: ابن عمر فابتدأ الحسن حديثا ألهانا بالاستماع إعجابا به حتى جاءنا الطعام. قال علي بن محمد وقال التي شدت خمارها برجله هند بنت سهيل بن عمرو وكان الحسن أحصن تسعين امرأة.

اردو ترجمہ

علی بن محمد (یعنی مدائنی) نے ابو جعدبہ سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی کہ حسن بن علی علیہما السلام نے خولہ بنت منظور سے شادی کی۔ ایک رات وہ ایک اونچی چھت پر سو رہے تھے خولہ نے اپنا دوپٹہ امام کے پاؤں سے باندھ دیا اور دوسرا سرا اپنے خلخال (پازیب) سے۔ امام رات کو اٹھے اور پوچھا: 'یہ کیا ہے؟' خولہ نے کہا: 'مجھے ڈر تھا کہ آپ نیند میں اٹھیں اور گر جائیں، پھر میں عربوں کی سب سے بدقسمت عورت ہوں گی!' امام کو یہ بات پسند آئی اور وہ سات دن تک ان کے پاس رہے۔ ابن عمر نے کہا: 'ہم نے ابو محمد (امام حسن) کو کئی دنوں سے نہیں دیکھا، چلو ان کے پاس چلیں۔' جب وہ پہنچے تو خولہ نے کہا: 'انہیں روکے رکھیں یہاں تک کہ ہم ان کے لیے کھانا تیار کریں۔' ابن عمر کہتے ہیں: 'امام حسن نے ایک ایسا کلام ابتدا کیا جس نے ہمیں مسحور کر دیا یہاں تک کہ کھانا آ گیا۔'

مدائنی نے کہا: وہ خاتون جنہوں نے اپنا دوپٹہ امام کے پاؤں سے باندھا، وہ ہند بنت سہیل بن عمرو تھیں، اور امام حسن نے نوے عورتوں کو 'احصن' کیا (یعنی ان سے شادیاں کیں یا انہیں اپنے نکاح میں لیا)۔

سند کا نقد

راوی: یزید بن عیاض بن جعدہ (ابو جعدبہ)

محدثین کا اجماعی فیصلہ ہے کہ یہ شخص کذَّاب، متروک اور منکر الحدیث ہے۔

محدثینِ اہل سنت کے تفصیلی اقوال:

امام بخاری نے اسے منکر الحدیث کہا ہے (تین جگہ یہی کہا)۔

منکر الحدیث یعنی؟

امام ابن حجر عسقلانی نے کہا وہ راوی جس کی انفرادات (تنہا روایات) مشہور ثقات(ثقہ راویوں) کی روایات سے مخالف ہوں، اور وہ کثرتِ غلطی کا حامل ہو۔

امام مسلم نے بھی یزید بن عیاض بن جعدہ کو منکر الحدیث ہی کہا ہے۔

یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف، نا معتبر اور لیس بشیء (کچھ نہیں ہے) کہا ہے۔

لیس بشئ علمِ رجال اور جرح و تعدیل کی ایک انتہائی شدید اصطلاح ہے، جو کسی راوی کی مکمل ناقابلیت ظاہر کرتی ہے۔

امام نسائی نے کہا یہ متروک الحدیث اور کذاب ہے۔

یعنی اس کی روایت کردہ احادیث کو نا لیا جائے اور وہ بہت جھوٹا ہے۔

امام مالک نے کہا: أکذب من ابن سمعان(وہ ابن سمعان سے بھی زیادہ جھوٹا ہے)

امام ابو حاتم رازی: ضعیف الحدیث، منکر الحدیث

یعنی اس کی حدیث ناقابل قبول ہے

امام ابو زرعہ نے کہا ضعیف الحدیث ہے، اضربوا على حدیثہ (اس کی حدیث پر خط کھینچ دو) مطلب اس کی حدیث کو لو ہی نا کیوں کہ درجہ اعتبار سے خارج ہے

دار قطنی کہا اسے ضعیف و متروک کہا۔

ابن حبان نے کہا: کان ممن یفرد بالمناکیر عن المشاہیر والمقلوبات عن الثقات، ساقط الاحتجاج

ترجمہ: وہ ان لوگوں میں سے تھا جو مشہور راویوں کے خلاف منکر (ناقابلِ قبول) روایات کو منفرد طور پر بیان کرتا تھا، اور ثقات (معتبر راویوں) سے مقلوب (الٹی پلٹی) روایات نقل کرتا تھا لہٰذا وہ ساقط الاحتجاج (قابلِ استدلال نہیں) ہے

امام ابو جعفر عقیلی اسے ضعیف راویوں میں شمار کرتا ہے

خطیب بغدادی نے اسے ضعیف، سیء الحال کہا

یعنی وہ راوی جو دین میں فاسق ہو، یا حدیث میں بہت غلطیاں کرتا ہو، یا اس کی عملی زندگی قابلِ اعتراض ہو۔

امام ذہبی نے اسے متروک اور کذاب کہا۔

ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب تقریب التہذیب میں اسے ضعیف کہا ہے

خلاصہ: یہ روایت سنداً باطل ہے اور غیر قابل قبول ہے کیونکہ اس کا ایک اہم راوی (یزید بن عیاض) محدثین کے نزدیک جھوٹا ہے۔

روایت نمبر 2 (ابن عساکر، از واقدی)

متنِ عربی

قال وأنبأنا محمد بن عمر نا عبد الرحمن بن أبي الموال قال سمعت عبد الله بن حسن يقول كان حسن بن علي قل ما يفارقه أربع حرائر وكان صاحب ضرائر وكانت عنده ابنة منظور بن سيار الفزاري وعنده امرأة من بني أسد من آل حزيم فطلقهما وبعث إلى كل واحدة منهما بعشرة آلاف درهم وزقاق من عسل متعة.

اردو ترجمہ

محمد بن عمر (واقدی) نے عبدالرحمن بن ابی الموال سے، انہوں نے عبداللہ بن حسن سے سنا کہ حسن بن علی علیہما السلام کم ہی ایسا ہوتا کہ ان سے چار حرائر (بیویاں) جدا ہوں، وہ ضرائر (ایک ساتھ کئی بیویاں) رکھنے والے تھے۔ ان کے پاس منظور بن سیار کی بیٹی (فزاریہ) تھیں اور ایک اسدی قبیلے کی عورت تھیں، پھر انہیں طلاق دے دی اور ہر ایک کو دس ہزار درہم اور شہد کے مشکیزے بطورِ لذت بھیجے۔

سند کا نقد

راوی: محمد بن عمر واقدی ضعیف اور متروک الحدیث ہے

محدثین اہل سنت کے اقوال:

ابن حجر عسقلانی نے تقریب التہذیب میں اسے متروک کہا ہے

دوسرے محدثین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا۔

نتیجہ

یہ روایت بھی ساقط ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنا دور خلافت بلکل سادگی کے ساتھ گزارا بیت المال کو درست اور عادلانہ استعمال کیا۔ ایک روایات میں ہے کہ مولا علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ان کے بڑے بھائی حضرت عقیل بن ابی طالب جو کہ نابینا ہو چکے تھے مولا کے پاس آئے اور کہا کہ میں نابینا ہوں اور میرے بچے زیادہ ہے لہذا بیت المال سے جو وظیفہ ملتا ہے وہ بڑھا دیں تاکہ میری زندگی آسان ہو جائے یا قرض کی ادائیگی کیلئے امام علیؑ کے بڑے بھائی حضرت عقیل کوفہ میں آئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ بیت المال سے ان کا قرض ادا کر دیں یا انہیں مال دے دیں۔ جب امام نے انکار کیا تو حضرت عقیل نے اصرار کیا کہ بیت المال تو آپ کے اختیار میں ہے، مجھے دے دیجیے۔

اس پر امام علیؑ نے ایک لوہے کی سلّی کو آگ پر گرم کیا اور جب وہ دہک اٹھی تو اسے حضرت عقیل کے قریب کیا، جو اس وقت نابینا تھے۔ حضرت عقیل جب آگ کی حرارت محسوس کر کے چلّانے لگے تو امام علیؑ نے انہیں فرمایا:

اے عقیل! کیا تم ایک ایسی آگ سے چلّاتے ہو جسے ایک انسان نے (دنیوی) کھیل کے لیے بھڑکایا ہے، اور مجھے اس آگ کی طرف لے جانا چاہتے ہو جسے اللہ نے اپنے غضب کے لیے بھڑکایا ہے؟

یہ دیکھ کر حضرت عقیل سمجھ گئے کہ بیت المال کی امانت کوئی معمولی چیز نہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب امام علی علیہ السلام کا بیت المال کے حوالے سے رویہ یہ ہو جنکے بارے میں کہا گیا کہ قُتِلَ لِشِدَّةِ عَدْلِهِ (انہیں زیادہ عادل ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے) اور ہمارے عقیدہ کے مطابق امام علی ع کے بعد ان کے بیٹے امام حسن نے ہی خلیفہ ہونا تھا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امام حسن اس قدر پُر خرچ اور موج کرنے والے ہوں کہ وہ شادیاں بھی کر رہے مہر بھی ادا کر رہے ہیں پھر طلاق بھی دے رہے ہیں اور ہدیہ بھی بھیج رہے ہیں

روایت نمبر 3 (ابن عساکر، از محمد بن حمید رازی)

متنِ عربی

أخبرنا أبو القاسم الشحامي أنا أبو بكر البيهقي أنا أبو الحسن علي بن الحسين بن علي البيهقي صاحب المدرسة بنيسابور أنا أبو حفص عمر بن احمد بن محمد القرميسيني بها نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن زياد الطيالسي نا محمد بن حميد الرازي نا سلمة بن الفضل نا عمرو بن أبي قيس عن إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد بن غفلة قال كانت الخثعمية تحت الحسن بن علي فلما أن قتل علي وبويع الحسن بن علي دخل عليها الحسن بن علي فقالت له ليهنئك الخلافة فقال الحسن أظهرت الشماتة بقتل علي أنت طالق ثلاثا فتلفعت في ثوبها وقالت والله ما أردت هذا فمكث حتى انقضت عدتها وتحولت فبعث إليها الحسن بن علي ببقية من صداقها وبمتعة عشرين ألف درهم فلما جاءها الرسول ورأت المال قالت متاع قليل من حبيب مفارق. فأخبر الرسول الحسن بن علي فبكى وقال لولا أني سمعت أبي يحدث عن رسول الله (صلى الله عليه وآله) جدي انه قال من طلق امرأته ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره لراجعتها.

اردو ترجمہ

ابو قاسم شحامی، بہیقی، قرمیسینی، طیالسی، محمد بن حمید رازی، سلمہ بن فضل، عمرو بن ابی قیس، ابراہیم بن عبدالاعلیٰ اور سوید بن غفلہ کی سند سے روایت ہے کہ ایک خثعمی خاتون امام حسن علیہ السلام کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت علیؑ شہید ہوئے اور امام حسن کی بیعت ہوئی تو امام ان کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: 'آپ کو خلافت مبارک ہو!' امام نے فرمایا: 'تم نے علیؑ کے قتل پر خوشی منائی؟ تمہیں تین طلاقیں ہیں! وہ خاتون اپنے کپڑے میں لپٹ گئیں اور بولیں: 'اللہ کی قسم! میرا یہ مطلب نہیں تھا۔' امام اتنے میں رکے یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہو گئی اور وہ چلی گئیں۔ پھر امام نے انہیں باقی مہر اور بیس ہزار درہم بطورِ متعہ بھیجے۔ جب قاصد ان کے پاس پہنچا اور انہیں مال دیا تو انہوں نے کہا: 'یہ تو بہت تھوڑا سا مال ہے ایک جدا ہونے والے محبوب سے!' قاصد نے امام کو بتایا تو امام رو پڑے اور کہا: 'اگر میں نے اپنے والد سے (اور رسول اللہ سے) نہ سنا ہوتا کہ جو تین طلاق دے وہ اس کے لیے حلال نہیں جب تک دوسرے سے نکاح نہ کرے، تو میں انہیں واپس لے لیتا۔

سند کا نقد

راوی: محمد بن حمید رازی

اہل سنت محدثین کا اجماعی فیصلہ ہے کہ یہ ضعیف، کذاب، متروک ہے۔

تفصیلی اقوالِ محدثین:

امام بخاری نے کہا فیه نظرٌ (یعنی اس میں اشکال ہے)

امام نسائی نے کہا لیس بثقة (ثقہ نہیں ہے)، "کذاب" (جھوٹا) ہے

یحییٰ بن معین نے اسے جھوٹا قرار دیا

ابو زرعہ رازی اور ابن وارہ نے کذاب کہا ہے

ابن حبان نے کہا کان ممن ینفرد عن الثقات بالأشياء المقلوبات (وہ ثقہ راویوں سے روایات کو ہیر پھیر کے الگ تھلگ بیان کرتا تھا)

یعقوب بن شیبہ نے کہا کثیر المناکیر (بہت منکر حدیثیں رکھتا ہے)

جوزجانی نے کہا ردیء المذهب، غیر ثقة(یعنی برے عقیدے والا، ناقابل اعتماد ہے)

فضلک الرازی نے کہا میرے پاس ابن حمید کی پچاس ہزار حدیثیں ہیں، لیکن میں ان سے ایک حرف بھی روایت نہیں کروں گا

ابن حجر نے ان تمام اقوال کو نقل کیا ہے اور ان کو تسلیم بھی کیا ہے کہ اقوال جو اس روای کے متعلق کہے گئے ہیں، صحیح ہیں

نتیجہ

یہ روایت ساقط ہے کیونکہ اس کا راوی جھوٹا ہے۔

شادیوں کے اعداد و شمار کا تضاد اور عقلی دلائل

کتاب الکافی میں کلینی نے جو روایت ذکر کی اس میں 50 زوجات کا ذکر ہے اس روایت کا روای یحییٰ بن ابی العلاء مجہول اور ضعیف ہے لہذا یہ روایت قابل قبول نہیں ہے۔

ابن عساکر نے مدائنی سے جو روایت نقل کی ہے اس میں 70 زوجات کا ذکر ہے لیکن مدائنی ضعیف روای ہے جس کا حال پہلے بیان ہو چکا ہے لہذا یہ روایت بھی ساقط الاعتبار ہے۔

90 شادیوں والی روایت بھی ساقط ہے جسے ابن عساکر نے یزید بن عیاض سے نقل کیا ہے کیوں کہ روای یزید بن عیاض اہل سنت مورخین کے نزدیک کذاب ہے۔

250 شادیوں والی روایت ابوطالب مکی نے اپنی کتاب (قوت القلوب) میں بلا سند لفظ "قِیْلَ" کے ساتھ بیان کی ہے اور جو روایت لفظ قِیْلَ (یعنی کہا گیا ہے) کے ساتھ آغاز ہو وہ قابل اعتبار نہیں ہوتی اور باطل ہوتی ہے کیونکہ لفظ قیل سے آغاز ہونی والی روایت کی سند معلوم ہی نہیں ہوتی اور روایت بیان کرنے والے کا کوئی اتا پتا بھی نہیں ہوتا۔

300 شادیوں والی روایت بھی ابوطالب مکی نے بلا سند ذکر کی ہے جو لفظ قِیْلَ سے ابتدا ہوتی ہے لہذا یہ بھی باطل ہے۔

نوٹ: تمام مذکورہ بالا روایات سنداً ضعیف ہیں مشہور کذاب راویوں سے نقل ہوئی ہیں ان میں بعض روای جیسے مدائنی امویوں کی طرف مائل تھا اور قل علی ع سے عناد رکھتا تھا، باقی روایوں کا تعلق عباسی دربار سے تھا مزید برآں مذکورہ روایات متن کے لحاظ سے بھی عقلا باطل ہیں۔ دوسرا یہ روایات خبر واحد ہیں اور متواتر نہیں ہیں، خبر واحد صرف شرعی احکام میں قابل قبول ہو سکتی ہے۔

خبرِ واحد

تعریف: وہ خبر(روایت) جو متواتر کی شرائط کو پورا نہ کرتی ہو، یعنی اس کے راویوں کی تعداد اتنی کم ہو کہ وہ علم یقینی (قطعیت) پیدا نہ کر سکے، صرف ظن (گمان) پیدا کرتی ہے۔

خبرِ متواتر

تعریف: وہ خبر جسے اتنی بڑی تعداد میں راویوں نے نقل کیا ہو کہ عقلاً ان کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو، اور یہ خبر علم یقینی (قطعیت) پیدا کرے۔

امام حسن علیہ السلام کی ازواج اور اولاد کی تعداد جو تاریخی کتابوں میں ذکر ہوئی ہے۔

ازواج (بیویاں):

1. خولہ بنت منظور الفزاریہ

2. ام اسحاق بنت طلحہ بن عبیداللہ التیمیہ

3. ام بشیر بنت عقبہ بن عمرو

4. حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر

5. ہند بنت سہیل بن عمرو

6. جعده بنت الاشعث

7. ام کلثوم بنت الفضل بن العباس بن عبدالمطلب

8. ایک عورت قبیلہ ثقیف سے

9. ایک عورت علقمہ بن زرارہ کے خاندان سے

10. ایک عورت بنی کلاب قبیلے سے

11. ایک عورت از بنی عمرو بن ابراہیم المنقری

12. ایک عورت بنی شیبان و بنی ہمام بن مرہ کے قبیلے سے

13. اسمآء بنت عطارد بن الحاجب

14. بنت عمیر بن المأمون

15. بنت شلیل بن عبداللہ

16. نفیلہ یا رملہ

17. عائشہ الخثعمیہ

ان بیویوں کے اسماء اور تعداد میں بھی تاریخی حوالے سے اختلاف ہے لیکن جن بیویوں کے نام ملتے ہیں ان کی تعداد 20 تک بھی نہیں پہنچتی جبکہ اوپر مذکورہ بیویوں میں لونڈیاں (ام ولد) بھی شامل ہیں۔

نوٹ: امام حسن کی بیویوں کے اسماء میں جہاں (ایک عورت فلاں قبیلے یا خاندان سے) لکھا گیا ہے ان کے نام بھی معلوم نہیں ہیں صرف اتنا ذکر کیا گیا ہے کہ فلاں قبیلے سے ایک عورت انکی بیوی تھی اور دوسرے فلاں قبیلے سے ایک عورت۔۔۔

نام کا معلوم نا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کافی عورتوں کو امام حسن علیہ السلام کی طرف نسبت دی گئی حالانکہ ہو سکتا ہے وہ ان کی بیویاں نا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ اگر امام حسن کی 250 یا 300 شادیاں تھی تو سب کے نام کدھر ہیں؟ جبکہ تاریخی کتابوں میں صرف 12 بیویوں کے نام ذکر ہوئے ہیں ج



سوالات متداول

مهم‌ترین نکات درباره نہیں چیست؟

جزئیات مهم و نکات قابل توجه درباره نہیں در متن مقاله بررسی شده است.

چرا امام حسن ع کی طلاق اهمیت دارد؟

این موضوع به دلیل اطلاعات و کاربردهای مرتبط، مورد توجه کاربران قرار گرفته است.

آخرین اطلاعات درباره امام چیست؟

جدیدترین اطلاعات و تغییرات مربوط به امام در این گزارش ارائه شده است.

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

صفحه بندی