خرید بک لینک

Copy

عمر بن خطاب کی حقیقت، اب خود تمہاری اپنی کتابوں سے ان کے جرائم پڑھ لو۔ ہم نے نہیں لکھا، تمہارے علماء نے لکھا ہے۔

عمر بن خطاب کی حقیقت

جرم اول: حضور ﷺ کو قتل کرنے کی نیت

مسند احمد بن حنبل، جلد 1، صفحہ 174-175:

"حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے تلوار لے کر گھر سے نکلا۔ ایک شخص نے پوچھا: اے عمر! کدھر جا رہے ہو؟ کہا: جا کر محمد کو قتل کروں گا!"

(تاریخ الاسلام، ذہبی، ج1 ص174؛ مسند احمد؛ صحیح مسلم)

سوال: جس نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کی نیت کی، وہ "فاروق اعظم" کیسے؟

جرم دوم: فاطمہ الزہرا (س) کے گھر کو جلانے کی دھمکی اور حملہ

✅ تمہاری کتابوں میں اعتراف:

1. تاریخ طبری، جلد 2، صفحہ 443:

"عمر بن خطاب علیؑ کے گھر آیا اور کہا: 'خدا کی قسم! میں تم پر گھر جلا دوں گا یا پھر بیعت کے لیے باہر آؤ!' "

2. العقد الفرید، جلد 5، صفحہ 12 (ابن عبد ربہ):

"عمر نے قبسِ آتش لے کر کہا: 'کیا تمہارا گھر جلا دوں؟' فاطمہ(س) نے کہا: 'اے ابن خطاب! کیا تو ہمارا گھر جلا دے گا؟' کہا: 'ہاں!' "

3. الامامہ والسیاسہ، جلد 1، صفحہ 12 (ابن قتیبہ):

"عمر نے کہا: 'خدا کی قسم! یا تو تم بیعت کے لیے نکل آؤ یا میں گھر کو جلاؤں گا جتنے بھی اس میں ہیں!' کہا گیا: اس میں فاطمہ ہیں! کہا: 'اگرچہ فاطمہ ہوں!' "

4. الشہرستانی، الملل والنحل، جلد 1، صفحہ 57 (الجاحظ کے حوالے سے):

"عمر نے فاطمہ(س) کے پیٹ پر مارا یہاں تک کہ ان کا حمل (محسن) گر گیا، اور عمر چلا رہا تھا: اس کے گھر کو جلا دو! جبکہ گھر میں علی، فاطمہ، حسن، حسین اور زینب تھے۔"

5. ابن حجر عسقلانی، لسان المیزان، جلد 1، صفحہ 268:

"عمر نے فاطمہ(س) کو لات ماری یہاں تک کہ ان کا حمل (محسن) گر گیا۔"

6. مسعودی، اثبات الوصیہ، صفحہ 143:

"انہوں نے گھر پر حملہ کیا، دروازہ جلایا، علیؑ کو زبردستی نکالا، اور خواتین کی سیدہ کو دروازے سے دبایا یہاں تک کہ محسن کا حمل گر گیا۔"

✅ فاطمہ(س) کا غصہ اور ناراضگی (تمہاری کتابوں سے)

صحیح بخاری، جلد 4، صفحہ 210:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "فاطمہ(س) میرے جسم کا حصہ ہے، جو اسے ناراض کرے اس نے مجھے ناراض کیا۔"

صحیح مسلم، جلد 7، صفحہ 141:

"بیشک فاطمہ(س) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو اسے تکلیف دے اس نے مجھے تکلیف دی۔"

صحیح بخاری، کتاب فضائل الصحابہ:

"فاطمہ(س) نے ابوبکر کو چھوڑ دیا اور اپنی موت تک ان سے بات نہیں کی۔"

جرم سوم: قرآن کے خلاف فتویٰ (متعہ کو حرام کرنا)

صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث 1405:

حضرت جابر فرماتے ہیں: "ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور ابوبکر کے دور میں اور عمر کے دور کے ابتدا میں متعہ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ عمر نے اس سے منع کر دیا۔"

مسند احمد بن حنبل، جلد 3، صفحہ 305:

عمر نے خطبہ میں کہا: "رسول اللہ ﷺ کے دور میں دو متعہ تھے: ایک متعہ حج کا اور دوسرا متعہ عورتوں کا۔ میں ان دونوں کو حرام کرتا ہوں اور ان پر سزا دوں گا۔"

سوال: قرآن سورہ نساء آیت 24 میں متعہ حلال ہے، کیا خلیفہ کو قرآن کے خلاف فتویٰ دینے کا حق ہے؟

جرم چہارم: حدیث لکھنے پر پابندی اور صحابہ کو مارنا

تقیید العلم، خطیب بغدادی، صفحہ 52-53:

عمر نے صحابہ کو حدیث لکھنے سے منع کیا اور کہا: "ہم اللہ کی کتاب سے کفایت کرتے ہیں۔" جب کسی نے حدیث لکھی تو اسے مارا اور مٹا دیا۔

ابن حزم نے اعتراف کیا: "عمر نے حدیث کی روایت اور کتابت سے منع کیا اور اپنے اس فیصلے پر اصرار کیا۔"

جرم پنجم: شراب نوشی

سنن بیہقی، جلد 8، صفحہ 181:

ایک دیہاتی نے عمر کی مشک سے نبیذ پی اور مدہوش ہو گیا۔ عمر نے اس پر شراب کی حد جاری کی، پھر خود اس شراب میں پانی ملا کر پی۔

⚡ فیصلہ کرو✌️

"یہ ہے تیرا 'فاروق اعظم' جس نے:

1. نبی ﷺ کو قتل کرنے کی نیت کی (مسند احمد)

2. فاطمہ الزہرا(س) کو لات ماری اور محسن کا حمل گرا دیا (لسان المیزان، ابن حجر؛ الملل والنحل، شہرستانی)

3. فاطمہ (س) کے گھر کو جلا کرنے کی دھمکی دی (تاریخ طبری، العقد الفرید)

4. قرآن کے خلاف فتویٰ دے کر متعہ کو حرام کیا (صحیح مسلم)

5. صحابہ کو حدیث لکھنے پر مارا (تقیید العلم)

6. شراب پئی (سنن بیہقی)

اب بتا: یہ فضیلت ہے یا رسوائی؟

تمہاری کتابیں گواہ ہیں، ہم نے نہیں لکھا۔ اب رونا بند کر اور خاموش ہو جا۔"

@followers

Islam zindabad

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

صفحه بندی