خرید بک لینک

فلسفۂ دشمنیِ بنی‌امیہ و بنی‌عباس با ائمہ علیہم السلام :-

یہ مسئلہ قابلِ غور و تامل ہے کہ یہ کس قسم کی دشمنی اور عداوت تھی جو انہوں نے امیرالمؤمنین اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کے ساتھ رکھی؟ آخر کیا چیز تھی جس نے اہلِ بیت (علیہم السلام) کے دشمنوں کو اس حد تک مجبور کیا کہ وہ اپنی دشمنی پر اصرار کرتے رہے اور ہر طرح سے ان بزرگواروں کو تنگ و پریشان کرنے کی کوشش کرتے رہے؟

بنو امیہ اور بنی عباس کی دشمنی کی وجہ

کیا یہ محض ایک خاندانی، قبیلائی اور گروہی عداوت تھی جس نے انہیں اس قدر جریٰ بنا دیا کہ انہوں نے کربلا اور عاشورا جیسی المناک واردات کو انجام دیا؟ کیا صرف یہی وجہ تھی کہ اہلِ بیت (علیہم السلام) بنی‌ہاشم کے قبیلے سے تھے اور یہ بنی‌امیہ کے قبیلے سے، کہ انہوں نے اہلِ بیت سے اس قدر دشمنی کی، حتیٰ کہ ان میں سے کسی کو بھی سلامت نہ چھوڑا اور سب کو شہید کر دیا؟

اس کے علاوہ یہ دشمنی صرف بنی‌امیہ تک محدود نہیں، بلکہ بنی‌عباس بھی — جو اہلِ بیت (علیہم السلام) سے قریبی رشتۂ خویشاہی رکھتے تھے — اہلِ بیت پر ظلم و ستم میں بنی‌امیہ کے شریک تھے، بلکہ ان کی بعض دشمنیاں اور جنایات بنی‌امیہ کے اعمال سے کہیں زیادہ شدید اور بدتر تھیں۔

یہ مسئلہ اس وقت اور زیادہ دلچسپ ہو جاتا ہے جب ہم توجہ کرتے ہیں کہ بنی‌عباس بنی‌امیہ کے خلاف قیام کرتے وقت خود کو اہلِ بیت (علیہم السلام) کا حامی قرار دیتے تھے۔ ان کا نعرہ تھا: "ہم نے آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی رضا کے لیے قیام کیا ہے۔" وہ عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ بنی‌امیہ اہلِ بیت اور آلِ رسول (علیہم السلام) پر ظلم کر رہے ہیں اور ان کا خون بہا رہے ہیں، اس لیے ہم آئے ہیں تاکہ اہلِ بیت کی حمایت کریں اور ان کا حق بنی‌امیہ سے واپس لیں۔

خراسان کے عوام اور ابومسلم خراسانی نے جنہوں نے ابوالعباس سفّاح اور پھر منصور دوانیقی اور دیگر کو تخت نشین کرنے میں مدد کی، وہ سب دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اہلِ بیت کے حامی ہیں اور ان مظالم و سختیوں کو ختم کرنے آئے ہیں جو اہلِ بیت پر روا رکھی جاتی ہیں۔

مگر عملاً سب نے دیکھا کہ بنی‌عباس کی طرف سے اہلِ بیت پر سختیاں اور دباؤ بنی‌امیہ سے کسی طرح کم نہ تھے، بلکہ بعض موارد میں اس سے بھی زیادہ اور شدید تھے۔

پس یہ دشمنی کوئی ذاتی، خاندانی، قومی یا قبیلائی جھگڑا نہیں تھی، بلکہ اس سے کہیں بالاتر ہے اور اس کی جڑیں کہیں اور ہیں۔

ہزاروں واقعات میں سے ایک کے طور پر، اس دشمنی کی اصل وجہ کو سمجھنے کے لیے ایک تاریخی نمونہ پیش کرنا مناسب ہے:

سفیان بن نزار نقل کرتے ہیں کہ میں اور کچھ دوسرے لوگ مأمون کی مجلس میں تھے۔ مأمون نے ہم سے کہا:

"کیا تم جانتے ہو کہ مجھے تشيع کس نے سکھایا؟"

سب نے کہا: "نہیں جانتے۔"

مأمون نے کہا:

"مجھے تشیع میرے والد ہارون نے سکھایا!"

سب حیران رہ گئے اور کہنے لگے:

"ہارون تو اہلِ بیت (علیہم السلام) کو قتل کراتا تھا، پھر تم نے ان سے تشیع اور اہلِ بیت سے محبت کیسے سیکھی؟!"

مأمون نے کہا:

"ایک دن فضل بن ربیع میرے والد ہارون الرشید کے پاس آیا اور کہا:

'دربار میں ایک شخص کھڑا ہے، گویا وہ موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابیطالب (علیہم السلام) ہیں۔'

میرے والد نے میری طرف، امین اور مؤتمن اور دیگر درباریوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا:

'اپنا حال مرتب کرو اور اپنے رویے کا خیال رکھو!'

پھر حکم دیا کہ موسیٰ بن جعفر (علیہما السلام) کو سوار ہی تخت کے سامنے لایا جائے!

موسیٰ بن جعفر (علیہما السلام) — جن کے چہرے پر عبادت کے آثار نمایاں تھے — ہماری مجلس میں تشریف لائے اور دروازے کے سامنے اپنی سواری (جو ایک گدھا تھی) سے اترنا چاہا۔

میرے والد ہارون الرشید نے آواز لگائی:

'نہیں، خدا کی قسم! آپ کو اسی سواری پر میرے تخت تک تشریف لانا ہوگا اور اپنا پاؤں سواری سے اُتار کر میرے تخت پر رکھنا ہوگا اور پھر اترنا ہوگا!'

موسیٰ بن جعفر (علیہما السلام) اسی گدھے پر میرے والد کے تخت تک گئے، وہاں سے اترے اور میرے والد نے اس بزرگوار کو نہایت احترام کے ساتھ اپنے پاس بٹھایا۔

جس مدت تک وہ حضرت سے گفتگو کرتے رہے، انتہائی ادب اور احترام کے ساتھ امام ہفتم (علیہ السلام) سے پیش آئے۔

رخصتی کے وقت بھی وہ اپنے تخت سے نیچے آئے اور عجیب و غریب تعظیم و احترام کے ساتھ حضرت کو مشایعت (رخصت) کیا۔

پھر مجھے، امین اور مؤتمن کو اشارہ کیا کہ حضرت کے محل سے نکلنے تک ان کی همراهی کریں اور ان کا رکاب (پایۂ سواری) پکڑیں تاکہ وہ سواری پر سوار ہوں!

مأمون کہتے ہیں:

"جب حضرت تشریف لے گئے اور مجلس خالی ہو گئی تو میں نے اپنے والد سے پوچھا:

'یہ شخص کون تھا؟ ہم نے آپ سے کسی کے لیے اتنا احترام کبھی نہیں دیکھا! ہمارے شایانِ شان نہیں تھا کہ ہم کسی ایک شخص کے سامنے خود کو اس قدر چھوٹا کریں اور اس طرح اس کی تعظیم و تکریم کریں!'

ہارون نے کہا:

'میں اگر ظاہر میں لوگوں کا امام ہوں اور ان پر حکومت کرتا ہوں، تو یہ زور اور تلوار کی طاقت سے حاصل کیا ہے، مگر حقیقی اور برحق امام یہ شخص ہے — یعنی موسیٰ بن جعفر (علیہما السلام)!

بیٹا! یہ شخص مجھ سے اور ہر دوسرے شخص سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی خلافت کا زیادہ حقدار ہے!

مگر اس کے ساتھ یہ جان لو کہ خدا کی قسم! اگر تو جو میرا بیٹا ہے، خلافت کے معاملے میں میرے ساتھ جھگڑا کرے گا، تو تیری آنکھیں کھوکھلی کر دوں گا!

کیونکہ مُلک اور بادشاہت بانجھ ہے۔" ملاحظہ ہو: بحارالانوار، ج 48، باب 6، روایت 4، ص 121۔

پس یہ دشمنی بنی‌امیہ اور بنی‌عباس کی اہلِ بیت (علیہم السلام) کے ساتھ کوئی خاندانی یا قبیلائی اختلاف نہیں تھا، تاکہ وہ بنی‌ہاشم سے عداوت رکھیں۔

اصل بات یہ تھی کہ اہلِ بیت (علیہم السلام) چاہتے تھے کہ اسلام معاشرے میں نافذ ہو اور مسلمانوں کی خلافت اور امورِ حکمرانی وہ شخص سنبھالے جسے اللہ تعالیٰ نے متعین کیا ہے اور اسے اجازت دی ہے۔

اور اس کے مقابلے میں، بنی‌امیہ اور بنی‌عباس چاہتے تھے کہ خلافت اور نبوی جانشینی کے نام پر اپنی خواہشات اور دنیاوی مطامع تک پہنچیں۔

یہ اختلاف حکومت، ولایت اور رہبریِ معاشرہ پر تھا۔

بنی‌امیہ اور بنی‌عباس چاہتے تھے کہ حکومت ان کے ہاتھ میں رہے، اور اگر کوئی شخص اس معاملے میں ان سے منازعت کرتا یا انہیں احتمال ہوتا کہ وہ ان کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، تو وہ اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے اور اسے تہس نہس کر دیتے۔

یہی وجہ تھی کہ وہ اہلِ بیت (علیہم السلام) سے دشمنی رکھتے تھے اور ان بزرگواروں کو یکے بعد دیگرے شہید کرتے رہے۔

اور یہ سب کچھ اس حال میں تھا کہ ائمہ (علیہم السلام) تقیہ کر رہے تھے اور علانیہ یہ دعویٰ نہیں کر رہے تھے کہ "ہم خلافت اور حکومت کے مدعی ہیں اور ولایت و رہبریِ معاشرہ ہمارے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔"

جبکہ ان کی اس غیر علانیہ حالت میں ہی وہ مصیبتیں ان پر آئیں جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں، اور اگر وہ علانیہ ایسا دعویٰ کرتے تو یقیناً دشمن انہیں کوئی نشان، کوئی نام اور کوئی رسم شیعہ اور اہلِ بیت سے باقی نہ رہنے دیتے۔

یہ تشیع جو آج ہم تک پہنچی ہے اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کی معارف میں سے جو تھوڑا بہت ہمارے پاس ہے، یہ سب اہلِ بیت (علیہم السلام) کی تدبیروں اور شبانه‌روز کوششوں کا نتیجہ ہے۔

جس طرح خود اسلام کا بقاء بھی اہلِ بیت (علیہم السلام) کی تدابیر اور تعلیمات کا مرہونِ منت ہے — اور اگر ان بزرگواروں کی کاوشیں اور ان کے دل کے خون نہ ہوتے تو آج اسلام کا صرف ایک نام باقی رہتا۔

اہلِ بیت (علیہم السلام) کے اسباق و تعلیمات اور ان شاگردوں کو جو انہوں نے تربیت دیے، یہی اسلام کے بقاء اور دوام کا راز بن گئے۔

اس لیے، صرف شیعہ ہی نہیں، بلکہ دیگر تمام اسلامی فِرَق بھی اپنا اسلام ان بزرگواروں کی کاوشوں کے مرہونِ منت ہیں۔

ماخذ: جانہا فدای دین

مفکر اعظم آیت اللہ العظمی محمد تقی مصباح یزدی رحمتہ اللہ علیہ

#لیاقت_ایوب

https://whatsapp.com/chael/0029VbCDJvnIXnluDrjNW610

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

صفحه بندی