خرید بک لینک
امام حسن علیہ السلام کی کثیر تعداد میں شادیوں اور طلاق کا شبہ اور اس کا عقلی اور نقلی جواباصلی بحث میں وارد ہونے سے پہلے بطور مقدمۃً چند چیزوں کا بیان ضروری ہے۔ ایک مسلمان ایک وقت میں صرف چار بیویاں رکھ سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں رکھ سکتا،(البتہ یہ شرط نبی کے ساتھ خاص نہیں ہے۔)ہاں اگر ان میں سے کسی ایک کی وفات ہو جائے یا طلاق ہو جائے تو پھر اور شادی کر سکتا ہے۔جیساکہ ہم سنتے ہیں مثلا کسی صحابی کی 10 سے 15 بیویاں تھیں تو وہ اسی حساب سے ہیں کہ ایک وقت میں 10 یا 15 نہیں تھیں بلکہ مختلف اوقات میں تھیادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

دامــاد علـی و بتـول نامی پاکستان میں جاری ناصبی ڈرامــہ فلاپ عقد ام کلثوم کا خود ساختہ افسانہ اور مولبی کی منافقت کا پردہ فاش معتبر ترین سنی کتب سے ایسے ایسے جھوٹ :لکہ الامان والحفیظ ۔۔ جنہیں سچ بتانے کےلیے اھل بیت علیہم السلام کے بغض و عناد اور عداوت کے حامل افراد کی طرف سے مزید کذب بیانی اور نت نئے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ھے ۔ اور یہ اھلبیت علیہم السلام کے باب العلم سے بھٹکے ھوئے در بدر ذلیل و خوار ھونے والے حضرات کا پرانا وطیرہ چلا آ رھا ھے ۔ کہ بغض علی علیہ السلام و اھلبیت علیھم السلام میںادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

Copyعمر بن خطاب کی حقیقت، اب خود تمہاری اپنی کتابوں سے ان کے جرائم پڑھ لو۔ ہم نے نہیں لکھا، تمہارے علماء نے لکھا ہے۔ جرم اول: حضور ﷺ کو قتل کرنے کی نیتمسند احمد بن حنبل، جلد 1، صفحہ 174-175:"حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے تلوار لے کر گھر سے نکلا۔ ایک شخص نے پوچھا: اے عمر! کدھر جا رہے ہو؟ کہا: جا کر محمد کو قتل کروں گا!"(تاریخ الاسلام، ذہبی، ج1 ص174؛ مسند احمد؛ صحیح مسلم)سوال: جس نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کی نیت کی، وہ "فاروق اعظم" کیسے؟ جرم دوم: فاطمہ الزہرا (س) کے گھر کو جلانے کادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

شیعہ اہل حق ہیںمرکزی صفحہسنی کتابوں سے سکین پیجزاہل حدیث سیاہ لباس پہننے کا جواز- سعید مجتبیٰ سعیدی 0 پیر، 9 اکتوبر، 2017 ایام عزا میں کالے لباس پہننے کی مابتدایت شام میں حضرت عثمان بن عفان کی عزاداری برپا کرنا شامیوں کا ایک سال تک حضرت عثمان کی عزاداری کروانا یہ مضمون بغیر کسی ترمیم کے رسالہ محدث مارچ 2006ء سے پیش کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیعہ زعما بالعموم سیاہ پگڑی استعمال کرتے ہیں، اور وہ اپنی مخصوص محافل و مجالس میں سیاہ جبہ بالخصوص پہنتے ہیں۔ ماہ ِمحرم الحرام میں ان کی ایجاد کادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

فلسفۂ دشمنیِ بنی‌امیہ و بنی‌عباس با ائمہ علیہم السلام :-یہ مسئلہ قابلِ غور و تامل ہے کہ یہ کس قسم کی دشمنی اور عداوت تھی جو انہوں نے امیرالمؤمنین اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کے ساتھ رکھی؟ آخر کیا چیز تھی جس نے اہلِ بیت (علیہم السلام) کے دشمنوں کو اس حد تک مجبور کیا کہ وہ اپنی دشمنی پر اصرار کرتے رہے اور ہر طرح سے ان بزرگواروں کو تنگ و پریشان کرنے کی کوشش کرتے رہے؟ کیا یہ محض ایک خاندانی، قبیلائی اور گروہی عداوت تھی جس نے انہیں اس قدر جریٰ بنا دیا کہ انہوں نے کربلا اور عاشورا جیسی المناک وارداتادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی . . میں نے سورۂ یوسف نہ جانے کتنی بار پڑھی، لیکن آج ایک ایسی بات پر نظر گئی جس نے مجھے حیران کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کی پوری زندگی کی کہانی صرف تین قمیصوں کے ذریعے بیان کر دی۔ یہ قرآن کی بہترین اندازِ بیان کی ایک شاندار مثال ہے۔ قرآن میں بے شمار معجزات کا ذکر ہے۔سمندر پھٹ جاتا ہے۔چاند دو ٹکڑے ہو جاتا ہے۔مردے زندہ کر دیے جاتے ہیں۔لیکن سورۂ یوسف میں اللہ تعالیٰ بار بار ہماری توجہ ایک بہت عام سی چیز کی طرف دلاتے ہیں…ایک قمیص۔پہلی قمیص: دھوکے اور غداری کی قمیص (سورادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

علماء کی تحریریں کیوں نہیں پڑھی جاتیں؟از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈانسانی تاریخ میں ایک طویل عہد ایسا بھی گزرا ہے جب علماء کی تحریریں ہر طبقہ میں مقبول تھیں، کیونکہ وہ علم و تحقیق کا بہترین نمونہ ہوتیں، اور فصاحت و بلاغت کی اعلیٰ مثال۔ آج بھی ان پر نگاہ ڈالیں تو ان کے اوصاف و کمالات سے عقل و خرد مرعوب ہو جاتے ہیں، اور ان کی عظمت و ہیبت سے سرنگوں۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سیبویہ کی الکتاب، ابن سینا کی الشفاء اور القانون، امام شافعی کا الرسالة، ابن حزم کی المحلى، زمخشری کی الکشاف، البیرونی کی ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

غامدی صاحب کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈحال ہی میں آسٹریلیا کے اپنے دورے کے دوران مختلف شہروں میں اہلِ علم، طلبہ اور تازه تعلیم یافتہ مسلمانوں نے مجھ سے بار بار یہ سوال کیا کہ برصغیر کے اکثر علماء جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں مثبت رائے کیوں نہیں رکھتے، اور اس سلسلے میں میری اپنی رائے کیا ہے۔مختلف مجالس میں اس سوال کا بار بار سامنے آنا اس بات کا باعث بنا کہ اس مسئله پر شخصیات، جذبات اور گروہی وابستگیوں کے بجائے علمی دیانت، تاریخی شعور اور اصولی انصاف کی روادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

آلِ زبیر کی حکومت کا قیام اور زوالایک مؤثر تاریخی جائزہ آلِ زبیر کی حکومت کے سقوط کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ حکومت کس طرح قائم ہوئی، کن حالات میں ابھری اور اس کی سلطنت کہاں تک پھیلی۔بعض قدیم مؤرخین، خصوصاً **** کے مطابق، امام حسینؑ کی مظلومانہ شہادت کے بعد پیدا ہونے والے شدید عوامی غم و غصے سے عبداللہ بن زبیر نے سیاسی فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے بنو امیہ سے امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے کا نعرہ بلند کیا اور مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی پناہ میں رہتے ہوئے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، یہاادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

محمدی دین اور کوفی دینپہلی بات: حضور ﷺ پر دین مکمل ہوا اور اس دین کو صحابہ کرام نے تابعین اور تابعین نے تبع تابعین تک پہنچایا۔ صحابہ کرام کو نبوت کی روشنی سے اسلام میں داخل کرنے والے ہمارے نبی ہیں اور صحابہ کرام نبی اکرم ﷺ کی احادیث کے راوی ہیں۔ دوسری بات؛ مجوسی اہلتشیع جماعت نبوت کی تعلیم رکھتی ہے تو بتا دے، اسکے راوی کونسے ہیں اور کب مسلمان ہوئے؟تیسری بات: اگر مجوسی اہلتشیع کہتے ہیں کہ نبوت کے بعد امامت تھی تو امامت کی روشنی میں پہلے امام نے کس کس کو عقیدہ امامت پر بیعت کر کے مسلمان کیا؟ اور ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: چهارشنبه 21 مرداد 1405 ساعت: 5:45

امام صادق (علیہ السلام) کی حدیث کا عربی متن اور اس کا اردو ترجمہ:بے عمل علماء کے متعلق امام صادق (ع) کا ارشادامام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:1. علم چھپانے والے:"إِنَّ مِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ يُحِبُّ أَنْ يَجْمَعَ عِلْمَهُ، وَلَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْخَذَ عَنْهُ، فَذَاكَ فِي الدَّرْكِ الْأَوَّلِ مِنَ النَّارِ"کچھ علماء ایسے ہیں جو علم جمع کرنا تو پسند کرتے ہیں لیکن یہ پسند نہیں کرتے کہ دوسرے ان سے علم حاصل کریں؛ پس ایسا شخص جہنم کے پہلے طبقے میں ہوگا۔2. متکبر اور بد مزاج:"وَ مِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ إادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: يکشنبه 21 تير 1405 ساعت: 1:38

مرحوم مجتہدین کے قمہ زنی اور خونی ماتم کے خلاف فتاوےآیت اللہ العظمی سیّد ابوالحسن اصفہانی؛ انّ استعمال السّیوف و السلاسل و الطبول و الابواق و ما یجری الیوم أمثاله فی مواكب العزاء بیوم عاشورا انّما هو مُحرم و هو غیر شرعی تلوار اور چھریوں اور زنجیروں کا استعمال، اس کے علاوہ طبل، آلات موسیقی اور اس طرح کے دیگر امور جو آج کل عزاداری کے دستہ جات اور عاشورا والے دن عموما استعمال ھوتے ھیں، سب کے سب حرام اور غیر شرعی ھیں۔ ٭دايره اامعارف تشيع ، ج 2 ، ص 531 و اعيان الشيعه ، ج 10 ، ص 378٭ آیت اللہ العظمی سادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: يکشنبه 21 تير 1405 ساعت: 1:38

خطبۂ نکاحبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِاَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اِقْرَارًا بِنِعْمَتِهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ اِخْلَاصًا لِوَحْدَانِيَّتِهِ، وَصَلَّى اللّٰهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ سَيِّدِ بَرِيَّتِهِ، وَعَلَى الْاَصْفِيَاءِ مِنْ عِتْرَتِهِ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَقَدْ كَانَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَى الْاَنَامِ اَنْ اَغْنَاهُمْ بِالْحَلَالِ عَنِ الْحَرَامِ، فَقَالَ اللّٰهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالٰی: وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰی مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَائِكُمْ، اِنْ يَّكُوْنُوْا فُادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: يکشنبه 21 تير 1405 ساعت: 1:38

عمار بن یاسر کا قتلابو سعید خدری کہتے ہیں :جب مسجد نبوی تعمیر ہو رہی تھی اُس وقت ہم سب تو ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے، لیکن عمار دو دو اینٹیں اُٹھا رہے تھے۔نبی کریم نے دیکھا تو اُن کے سرے مٹی صاف کی، اور فرمایا :ويح عمار، تقتله الفئة الباغية، عمار يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ»افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی، عمار تو انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو گا، اور وہ (باغی) اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے " «(صحيح البخاري (2812)امام احمد بن حنبل، اور امام نسائی نے روایت ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: يکشنبه 21 تير 1405 ساعت: 1:38

اہل تشیع سے چند سوالات پوسٹ پڑھ کر جواب دے سن 11 ھجری جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عمر 7 سال تھی ،یعنی خالص بچپن کی عمر تھی اس حساب سے سن 61 ھجری کو کربلا میں یزید کے مقابلے میں آکر شہید ہوتے وقت آپ کی عمر57 سال بنی گویا حضور کے وصال کے وقت سے کربلا کے معرکہ تک درمیان میں آپ کی عمر مبارک کے 50 سال کا طویل عرصہ گذرا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی عمر کے یہ 50 قیمتی سال کہاں گذرے ؟ کیونکہ جب بھی حضرت حسین کا ذکر ہوتا

برچسب: نویسنده: آریا رضوانی تاريخ: يکشنبه 21 تير 1405 ساعت: 1:38

صفحه بندی